حصارِ — Page 32
طاقت مسند خلافت سے اتار نہیں سکتی۔۳۲ اسی طرح اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں نعمت خلافت کی ناشکری کرنے والے جب پیدا ہوئے اور یہ سمجھنے لگے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے بعد خلافت کی کوئی خاص ضرورت نہیں لہذا آپ کے خلیفہ اول کو ردائے خلافت اتار دینی چاہتے تو حضرت حکیم نورالدین خلیفہ الی الاول نے بڑی تختی سے فرمایا۔وو مجھے اگر خلیفہ بنایا ہے تو خدا نے بنایا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔خدا کے بنائے ہوئے خلیفہ کو کوئی طاقت معزول نہیں کر سکتی۔خد اتعالیٰ نے معزول کرنا ہوگا تو وہ مجھے موت دے گا تم اس معاملہ کو خدا کے حوالہ کر دو تم معزول کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ہے (الحكم (۲۱۴) پس جس قدر بڑے معاملات تھے بڑے منصب کے مجددین نے حل کیے اور بدعات و بد رسومات کے بڑے بڑے طوفانوں کا مقابلہ خلفائو نے کیا اور دین کی تجدید کی اور پھر رخ اسلام سے بدعات کی گرد جھاڑنے کے لیسے اولیاء اللہ کا ایک طویل سلسلہ چلا جس میں سے ہر ایک نے اپنی استعداد اور بساط کے مطابق تجدید دین کی۔پھر آخری زمانہ میں جب امت مسلمہ ضلال مبین میں مبتلا ہوکر و لا يبقى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ وَلَا يبقى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمُهُ مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابُ مِنَ الْهُدَى عُلَمَاء هُمْ شَر مَن تَحْتَ أدِيمِ السَّمَاءِ (مشكوة كتاب العلم ) کہ اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا اور قرآن کے صرف نقوش رہ جائیں گے ، مسجدیں بظاہر آباد مگر ہدایت سے خالی ہوں گی۔لوگوں کے علماء آسماں تلے ہر مخلوق سے بدتر ہوں گے " کے علاوہ حدیث رسول يُقبضُ الْعُلَمَاء حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ عَالِمُ اتَّخَذَ النَّاسُ رُوساً جُهَا لا فَافْتَوا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَاضَلُّوا - (مشكوة كتاب العلم) کہ اللہ تعالیٰ حقیقی علماء کو اٹھا لیگا پھر جب کوئی عالم نہ رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنالیں گے۔پھر جب ان سے دین کی باتیں پوچھی جائیں گی تو وہ بغیرعلم کے قومی دیں گے اور خودگراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے " کا نقشہ پیش کرنے لگی۔روحانیت سے دل تہی اور سینہ نور اسلام سے خالی ہوگیا