حصارِ — Page 31
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسل کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک رسول ہیں۔آب سے قبل تمام رسول وفات پا چکے ہیں۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ اس منطق نتیجہ پر پہنچ گئے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے قبیل سب انبیاء وفات یافتہ ہیں اور محمد بھی ایک رسول ہیں لہذا آپ کے لیے بھی جان جبان آفرین کے سپرد کرنا مقدر ہے اور آپ اس تقدیر کے نیچے آچکے ہیں۔اسی زمانہ میں ایک اور بدعت یہ شروع ہونے لگی اور صحابہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا کہ حالات کی نزاکت کے باعث وہ لشکر جونبی اکرم نے تیار کیا تھا اسے روک دیں یہ نہ ہو کہ دشمن بعد میں مدینہ پر حملہ کر کے اسلام کو نقصان پہنچائے۔اس موقعہ پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بڑے جلال سے فرمایا کہ درندے ہماری لاشوں کو مدینہ ی گلیوںمیں بھی گھسٹتے پھریں توبھی میں شکر کی روانگی نہیں روک سکتاجی کو بھجوانے کا رسول للہ صل اللہ علی وسم نے ارشاد فرمایا ہو۔پس اگریہ لشکر حضرت ابو بکر روک دیتے توبعد میں یہ جواز پیدا کیا جاتاکہ رسول الا صلی الہ علیہ وسلم کے احکام کو ٹالا جاسکتا ہے اور پھر یہ بدعت دین اسلام کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیتی۔اسی طرح احکام شریعت کو ٹالنے کی ایک تحریک ابھی اور بعض قبائل نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا اور اس سے معذرت چاہی تو آپ نے بنیادی طور پر اس تحریک کو ختم کر کے رکھ دیا کیوں شریعت پر عمل کرنا ہر صاحب ایمان کے لیے ضروری ہے اور جو اسلام کا اقرار کرتا ہے ، اُسے ارکان اسلام کا پابند ہو نا ضروری ہے چنانچہ آپ نے بڑے عزم سے فرمایا۔تو مَنعُونِي عِقَالاً بجاهَدْتُهُمْ عَلَيْهِ کہ اگر وہ زکواۃ میں ایک ہی تک دینے سے بھی انکار کریں تو میں اس کے حصول کے لیے ہر قسم کا مجاہدہ کروں گا اور لے کر رہوں گا۔پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں منافقین کی طرف سے یہ مطالبہ کیا گیاکہ منتخب خلیفہ کو منصب خلافت سے اتارا جا سکتا ہے تو آپ نے نے اس گمراہ کن مطالبہ کو انتہائی استقلال سے رد کیا اور فرمایا۔مَا كُنتُ لِاخْلِعَ سِرْ بِالاً سَرْ بَلَنِيْهِ اللَّهُ تَعَالَى - (تاریخ الطبری) کہ وہ ردائے خلافت جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پہنائی ہے وہ ہیں کس طرح اتار سکتا ہوں۔جس طرح نبوت خدا کی موہت ہے اور کوئی شخص نبوت کو چھین نہیں سکتا۔اسی طرح خدا کے قائم کردہ خلیفہ کو دنیا کی کوئی