حصارِ — Page 17
نے وَيَيُمَيِّنَ لَهُمْ دَيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ میں تمکنت و استحکام دین اور غلبہ کو خلافت سے وابستہ کیا ہے۔اس کا واضح نظارہ تاریخ اسلام کے اس خوفناک موڑ پر نظر آتا ہے کہ جب مسلمانوں کے دل اس ایمان سے خالی ہو گئے جس کی بناء پر خلافت کا قیام ہوتا ہے ، اور اس نعمت عظمی کو خیر باد کہ دیا گیا ، پھر جو صیبتیں مسلمانوں پر افتراق و انتشار اور تنزل ادبار کی صورت میں نازل ہوئیں ان کی داستانیں ابروئے قلم سے خون ڈھلکاتی ہیں کیونکہ امت مسلمہ پر طلوع ہونے والا ہر سورج مسلمانوں کی ذلت دہر بمت کا پیامبر تھا اور ہر ڈھلنے والا دن حسرت و یاس کی علامت۔اسلام کی اس حالت زار میں خدا تعالیٰ نے ويمكن لهم دینھم کی صداقت کے ثبوت کے لیے خلافت کے ذریعہ استحکام اسلام اور تمکنت دین کا جلوہ ظاہر کیا اورمحمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی جان نشینی میں مسیح موعود اور مہدی معہود کو مبعوث فرمایا اور اسے مقام نبوت سے بھی نوازا اور یہ نوید دی' وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا کہ تیرے ماننے والوں کو خُد اتعالے منکروں پر قیامت تک غالب رکھے گا۔چنانچہ آپ کے ذریعہ اسلام سے ہر اعتراض کو دور کیا گیا ، اسلام کی حقانیت اور دگر مذاہب کے بطلان کو روز روشن کی طرح واضح کر دیا گیا۔پھر آپ کی وفات کے بعد خلافت عَلَى مِنْهَاج النبوة آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کیمطابق قائم ہوئی اور نظام خلافت کے ذریعہ اس الہام کی صداقت چہار دانگ عالم میں ظاہر ہوئی اور آج دنیا کے ہر خطہ میں دین مصطف اصلی اللہ علیہ وسلم کو برتری حاصل ہے۔اسلام کے سامنے ہر مذہب کے پیش کردہ دلائل سیاب بر آب ثابت ہو چکے ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔دیکھو ہم ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کر رہے ہیں مر تم نے کبھی غورکیا کہ یہ تبلیغ کس طرح ہو رہی ہے ؟ ایک مرکز ہے جس کے ماتحت وہ تمام لوگ جن کے دلوں میں اسلام کا درد ہے اکٹھے ہو گئے ہیں اور اجتماعی طور پر اسلام کے غلبہ اور اس کے احیاء کے لیے کوشش کر رہے ہیں وہ بظا ہر چند افرا دنظر