حصارِ

by Other Authors

Page 16 of 72

حصارِ — Page 16

استحکام اسلام وتمكنت دین حضرت مسیح موعود علیہ السّلام فرماتے ہیں:۔جب کوئی رسول یا مشائخ وفات پاتے ہیں تو دنیا پر ایک زلزلہ آجاتا ہے اور وہ ایک بہت ہی خطر ناک وقت ہوتا ہے مگر خدا کسی خلیفہ کے ذریعہ اس کو مٹاتا ہے اور پھر گویا اس امر کا انہ سیر نو اس خلیفہ کے ذریعہ استحکام ہوتا ہے۔(الحکم ۱۴ را پریل ۱۹ئ) آیت استخلاف میں اللہ تعالیٰ نے خلافت حقہ کی ایک برکت وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمْ بیان فرمائی ہے کہ نبوت کے بعد اسلام کی ترقی کا انحصار ، اس کے غلبہ کا دارو مدار اور اس کی ترقیات کا سرچشمہ خلافت ہوگی کوئی دوسرا نظام نہیں۔اس کی تشریح اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ انتُمُ الأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ میں بیان فرمائی ہے کہ غلبہ اور برتری کا تصور ایمان کے ساتھ وابستہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانیوالے ہر طاقت پر غالب آئے ، ہر بڑی سے بڑی سلطنت ان چند مومنوں کے سامنے سرنگوں ہوئی۔ایران کے محلات ، شام کی فصیلیں اور خیبر کے قلعے اس کی گواہی کے لیے کافی ہیں۔علم ، دلائل اور صداقت کے نشانات میں بھی ہر مذہب اسلام کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔مگر کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یہ غلبہ ختم ہوگیا؟ آپ کی وفات کے بعد وہ کون سا منصب تھا جس پر ایمان لانا لازمی قرار پایا ؟ اور وہ کونسا مقام عالی تھا جو ایمان کے قرار کا موجب بنا ہے۔اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد غلبہ کا تصور موجود ہے اور ایمان اس غلبہ کا لازمہ ہے تو پھر نبوت کے بعد خلافت ہی وہ منصب عظیم ہے جس پر ایمان غلبہ و کامرانی سے ہمکنار کرتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ