حصارِ — Page 5
ہیں۔یہ تعلیم العقائد والاعمال پر خطبات ما از حضرت الصلح الموعود مرتبه شیخ یعقوب علی عرفانی نام خلافت کے ساتھ فطرتی محبت اور فدائیت کا رشتہ تو تھا ہی مگر جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے مندرجہ بالا ارشاد پر نظر پڑی توفرض کی ادائیگی کے طور پر خلافت کی برکات کے بارہ میں حقیقتیں سینہ قرطاس پر بکھیرنے کے لیے نوک قلم کو جنبش دی۔مگر مشکل یہ در پیش آئی کہ ابتداء کہاں سے کروں۔اس ایمان سے جس کی بناء پر خدا تعالیٰ نے مومنین سے وعدہ خلافت کیا یا اعمال صالحہ کی ان بنیادوں سے جو خلافت کے قیام کی وجہ بنتے ہیں۔مضمون کے دروازہ سے تائید الہی کے ان جلوؤں کے ذکر سے کھولوں جو ہر آن خلافت کے شامل حال رہتے ہیں یا ان ناکامیوں اور نامرادیوں سے جو اس کی مخالفت کے باعث تاریخ اسلام کے درخشاں باب کو بدنما کرگئیں۔یہ اس محبت اور عقیدت سے شروع کروں جو اسکی روشنی میں جلا پا کر مقدس ہوجاتی ہے یا اس اطاعت اور فرمانبرداری سے جو خلافت سے وابستگی کی شرط اول ہے۔ساری حقیقتیں عیاں ہیں اور ساری کرنیں روشن کون پھول چنوں گلشن سے ایک سے ایک سوا لگتا ہے۔اسی کشمکش میں ذہن کے تار اس عظیم الشان حقیقت افروزہ واقعہ میں الجھ گئے جو خلافت اسلامیہ کے ظہور کے ساتھ ہی رونما ہوا۔جس نے خلافت کی حقیقت، اہمیت اور برکتوں کو اتنی وضاحت بخشی کہ اس کی صداقت اور منجانب اللہ ہونے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ رہی۔اس ایک واقعہ نے عظمت خلافت کو اتنا روشن کر دیا کہ شرک کی گھٹائیں اور دین میں کمزوری اور خوف کے تمام بادل چھٹ گئے۔اس واقعہ سے یہ ثابت ہوگیا کہ نبی طرح مقام نبوت پر فائز شخص کو دنیا کی کوئی طاقت جنبش نہیں دے سکتی اسی طرح مسند خلافت پر متمکن وجود ناقابل تسخیر ہوتا ہے۔جس طرح خدا تعالے کا نبی اس کی صفات کا مظہر کامل ہوتا ہے۔اسی طرح خلیفہ وقت کے وجود میں بھی دنیا خدا تعالے کی صفات کے جلوے مشاہدہ