حصارِ

by Other Authors

Page 33 of 72

حصارِ — Page 33

م السلام دین اسلام روایات کا مجموعہ بن کر شرک وبدعات سے لبریز ہو گیا۔مسلمان عارض اسلام کو غازہ انوار الہیہ سے عاری دیکھ کر خزاں رسیدہ پتوں کی طرح عیسائیت کی گود میں گرنے لگے۔حیات مسیح جیسے مہلک عقیدہ نے اسلام کی بنیا دوں کو دیمک کی طرح چاٹ لیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے دین مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی پاسبانی کے لیے مجدد العظم مسیح موعود کا سر صلیب کو شان نبوت کیس تھ بھیجا۔میں نے ایک دفعہ پھر زندہ نشانات اور پیغمبرانہ معجزات سے حسن اسلام کو تا بندہ کر دیا۔جس نے اپنے فرائض کے طور پر صفت مسیحیت سے عیسائیت اور غیر مذاہب کو ہدایت کی طرف بلایا اور صفت مہدویت کے ناطے سے مسلمانوں کی اصلاح کی اور اس طرح تجدید دین کا بیڑا اٹھایا چنانچہ شیعہ عقائد کی مستند کتاب بحار الانوار میں مسیح موعود کے لیے لکھا ہے۔يُظهرُ الإِسْلَام وَ يُجَدِّدُ الدِّين ( بحار الانوار جلد ۹) کہ وہ اسلام کو دوسرے ادیان پر غالب کر کے دکھائے گا اور دین متین کی تجدید کرے گا۔اسی طرح امام جلال الدین سیوطی و مسیح موعود کے بارہ میں فرماتے ہیں۔وَآخِرُ المئين فيها يَأتي عيسَى نَبِيُّ اللَّهِ ذُو الْآيَاتِ يُجَدِّدُ الدِّينَ لِهَذِهِ الأُمَّةِ بیج الکرامه از نواب صدیق حسن خان) کہ آخر میں عیسی نبی اللہ نشانات ومعجزات کے ساتھ آئیں گے اور اس امت میں تجدید دین کریں گے پھر آگے جاکر فرمایا : وَبَعْدَهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُجَدِّدٍ کہ اس کے بعد کوئی مجد د نہیں ہو گا۔یعنی وہی آخر می مجدد ہو گا اس اعتبار سے کہ امام مہدی ومسیح موفوڈ کے بعد خلافت راشدہ کی موجودگی میں تجدید دین کا وہ تصور نہیں رہے گا، جو امام مہدی کے ظہور سے قبل خلافت راشدہ کی عدم موجودگی میں تھا کیونکہ خلافت حقہ تجدید دین کی اعلیٰ قسم ہے۔پس مسیح موعود کے بعد اس کی