حصارِ — Page 20
کر رہی ہے اور حضرت ابوبکر رضی اللہعنہ نے بھی یہی فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے تم میں اس لیے خلافت قائم کی ہے کہ تم آپس میں رشتہ محبت والفت میں منسلک رہو۔حضرت عثمان کے زمانہ میں جب خلافت پر نکتہ چینیاں شروع ہوئیں اور منافق آپ کے قتل کے ذکر پسے ہوئے تو آپ نے فرمایا : - اگر تم مجھے قتل کرو گے تو بخدا میر سے بعد تم میں اتحاد قائم نہیں ہوگا اور کبھی متحد اور مجتمع ہوکر نماز نہیں پڑھ سکو گے اور نہ میرے بعد تم کبھی متحد ہو کر دشمن سے جنگ کر سکو گے۔(تاریخ الطبری) لیکن اس تنبیہ کے باوجود آخر کار حضرت عثمان خلیفہ رائد شہید کر دیئے گئے اور بردائے الفت و محبت تار تار ہوگئی ، نعمت اتفاق و اتحاد چھن گئی اور مساجد سے لیکر میدان جنگ تک صفیں جدا جدا ہو گئیں۔اس کے بعد پھر حضرت علی کے زمانہ میں جب خلافت سے ایمان اٹھا تو ایک طرف آپ کے مُفرط محبتین کے کے مستقل گروہ پیدا ہوئے اور دوسری طرف خالی مبغضین اور پھر ان کے درمیان بغض و عناد کی خلج وسیع تر ہوتی گئی۔چنانچہ پھر تو مصائب اسلام پر حضرت عائشہ اور طلحہ اور میرا کی شکر کشی ، جنگ جمل ، جنگ صفین ، جنگ بصرہ ، جنگ ذاب ، جنگ نگہ ، جنگ کربلا اور آخر کار حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی صورت میں نازل ہوئے۔ان کی نفرت انگیز داستانیں وراق تاریخ میں آج بھی خوننا بہ بار ہیں۔جن کے مطالعہ سے مسلمان ادھر آنکھیں ، ادھر کف افسوس ملتا رہ جاتا ہے۔اور ہر مسلمان اس کا گواہ ہے کہ یہ مصائب وامن خلافت تار تار کرنے کی وجہ سے مسلمانوں پر ٹوٹے کیونکہ خلافت ہی اتحاد و یکجہتی کے قیام کا واحد ذریعہ ہے۔حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی بصیرت افروز نصائح لوح قلب پر نقش کرنے کے قابل ہیں آپ نے خلافت کے بارہ میں فرمایا :- ی یہی تمہارے لیے بابرکت راہ ہے تم اس حبل اللہ کو اب مضبوط پکڑ لو یہ بھی خدا ہی کی رہتی ہے جس نے تمہارے متفرق اجزاء کو اکٹھا کر دیا ہے۔پس اسے مضبوط پکڑے رکھو اور فرمایا : - د بدر یکم فروری ۶۱۹۱۲ )