حصارِ — Page 30
ساتواں ہزار ہدایت کاہے جس میں موجود ہیں۔چونکہ یہ آخری ہزار ہے اس لیے ضرور تھا کہ امام آخر الزمان اس کے سر پر پیدا ہو اور اس کے بعد کوئی امام نہیں اور نہ کوئی مسی مگر وہ جو اس کے لیے بطور قل کے ہو کیونکہ اس سہزار میں اب دنیا کی عمر کا خاتمہ ہے جس پر تمام نبیوں نے شہادت دی ہے اور یہ امام جو خداتعالے کی طرف سے مسیح موعود کہلاتا ہے وہ مجتر و صدی بھی ہے اور مجدد (بیکر سیالکوٹ مت) الف آخر بھی۔حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق مسیح موعود کی اس نبوت کے بعد پھر خلافت علی منہاج النبوة ( معیار نبوت پر خلافت) کا قیام ہوا اور حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے خلافت کو دائمی اور قیامت تک قرار دیا ہے پس اب قیامت تک اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود کے ظل میں خلافت کے ذریعہ تجدید دین کے سامان پیدا کرے گا چنانچہ حضرت خلیفتہ اسیح الثالث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔لفظ محدود قرآن کریم میں کہیں موجود نہیں ہے۔در اص مجدد والی حدیث کی تفسیر آب استخلاف میں مضمر ہے۔جس میں خلافت کے ساتھ تجدید دین کو وابستہ کر دیا گیا ہے " (الفضل نومبر ۶۱۹۷۷) اسی طرح حضرت خلیفہ البیع الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :- خلیفہ مجدد سے بڑا ہوتا ہے اور اس کا کام ہی احکام شریعت کو نافذ کرنا اور دین کو قائم کرنا ہوتا ہے پھر اس کی موجودگی میں مجدد کس طرح آسکتا ہے " (الفضل قادیان ۱۸ اپریل ۶۱۹۴۸ ) پس خلافت کے ہوتے ہوئے اس کے مقابل پر مجتہد کا تصور غلط اور فضول ہے اس لیے کہ جب بھی دین اسلام میں بڑی بدعات پیدا ہوئیں خلافت نے ہی انہیں ختم کیا۔تمام بڑے بڑے بگاڑ خلافت کے ذریعہ ہی دور ہوئے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب شرک پھیلنے کا اندیشہ ہوا اور یہ گمان ہونے لگا کہ آنحضت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہو سکتے اور وہ عارضی طور پر دنیا سے رخصت ہوئے ہیں حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہاں تک کہ دیا کہ جو یہ کہے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے ہیں، میں اسکاسرتن سے جدا کر دونگا اس صورتحال میں کسی کو جرات نہ تھی کہ حضرت عمرہ کی اس بات کو ر ذکر سکے۔مگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین بننے والے شخص حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس دسو سے کو کمال جرات سے دور کیا اور قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی