ہجرت سے وصال تک — Page 118
انہوں نے اسلام قبول کیا اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مدینہ کی طرف چل پڑے۔راستے ہیں آپ سے ملاقات ہوئی۔آپ نے ان کو بھی ساتھ لے لیا اور اہل خاندان کو مدینے بھجوا دیا جب یہ لشکر مکہ کے قریب مرالظہران پہنچا تو آپ نے پڑاؤ کا ارشاد فرمایا۔صحابہ کو بہت سی لکڑیوں میں تقسیم کیا۔اور فرمایا کہ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر آگ روشن کر دیں۔قریش کو لشکر کی آمد کی خبر ملی تو چند افراد کو حالات کا جائزہ لینے کے لئے بھیجا وہ تو حیران پریشان ہو گئے۔اتنا بڑا مشکہ کہاں سے آگیا۔آپ کے چا حضرت عباس کو ابوسفیان ملا۔یہ اسلام کا سب سے بڑا دشمن تھا۔حضرت عباس اسے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔آپ نے اس سے نرمی کا برتاؤ کیا۔اتنی شفقت دیکھ کر ابوسفیان اسلام سے آیا۔آپ نے فرمایا سردار قریش کو پہاڑ کی چوٹی پر لے جاکہ لشکر اسلام کا نظارہ کراؤ۔ابو سفیان بے حد مرعوب ہو گئے اور واپس مکہ جا کر کہا کہ ہمارے لئے اتنے بڑے مسلح لشکر کا مقابلہ ممکن نہیں ہو گا۔انہوں نے مزاحمت نہ کی۔اس طرح یہ لشکر اسلام بغیر مقابلے کے بغیر خون بہائے مکہ کی مقدس وادی میں داخل ہوا۔آپ خانہ کعبہ میں تشریف لائے۔سواری پر سات دفعہ طواف کیا پھر حدود حرم میں رکھے ہوئے تین سو ساٹھ توں میں سے ایک ایک کو چھڑی سے ٹھو کر دیتے اور قرآنی آیت پڑھتے۔جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًاه