ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 115 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 115

110 فوج کے ساتھ ساتھ تشریف لے گئے اُدھر شرجیل نے خبر پا کر ایک لاکھ سپاہیوں کی فوج تیار کرلی۔اُن کی مدد کے لئے روم کا بادشاہ ہر قل بھی فوج لے کر آگیا۔اتنی ٹیری زبر دست طاقتور فوج کے سامنے تین ہزار جانشار مسلمان بے جگری سے لڑے۔تینوں سپہ سالار ایک کے بعد ایک شہید ہوئے۔اُن کے بعد کمان حضرت خالد بن ولید نے سنبھالی اور فتح یا شہادت » حاصل کرنے کے لئے پُر جوش تقریر کی مسلمانوں نے زیر دست جد ہے سے مقابلہ کیا۔مگر اتنی بڑی فوج سے بچے کہ آجانا ہی بڑی حکمت عملی اور کامیابی تھی چنانچہ یہ لوگ واپس آگئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید ہونے والوں سے بہت محبت تھی آپ کو دلی دکھ ہوا جب حضرت زید بن حارثہ کی صاحبزادی آپ سے لپٹ کر رونے لگیں تو آپ بھی رو پڑے حتی کہ شدت غم سے آپ کی سسکی نکل گئی اس پر حضرت سعد بن عبادہ نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا " یہ ایک جیب کا اپنے محبوب کے لئے اظہار محبت ہے ؟ (طبقات الکبری این سعد جلد ۳ ۴۶) یہ جنگ جمادی الاول شده مطابق جنوری ۶ء میں ہوئی۔اب میں آپ کو فتح مکہ کا حال سناتی ہوں۔بچہ۔حدیبیہ والا معاہدہ کیا ہوا ؟ ہاں۔یہ ٹھیک ہے کہ صلح حدیبیہ کی وجہ سے جنگ نہیں ہو سکتی تھی مگر اللہ تعالیٰ اب اپنے محبوب بنی کو واپس مکہ میں لانے اور خانہ کعبہ کو تینوں سے پاک صاف