ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 104 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 104

۱۰۴ کی کہ معاہدے کی دوسری شرط ختم کر کے اُن مہاجرین کو اپنے پاس مدینہ بلالیں۔آپ کی طرف سے جب اس امر کی اطلاع اور مدینہ آجانے کی اجازت کا خط پہنچا تو بیمار ابو بصیر آخری سانسیں لے رہے تھے البتہ ابو جندل اپنے ساتھیوں سمیت اپنے آقا کے قدموں میں پہنچ گئے۔بچہ۔پیارے آقا کی بات پوری ہوئی کہ اللہ تعالی خود سامان کر دے گا۔ماں۔جی ہاں۔پیارے بچے آپ کو ابو جندل کی فکر ہو گئی تھی اس لئے پہلے میں نے یہ ساری بات بتادی جبکہ صلح حدیبیہ کے بعد کا ایک واقعہ ابھی باقی تھا۔مسلمان بیت اللہ کے طواف کے ساتھ قربانی کرنے کے لئے جانور بھی لائے ہوئے تھے۔جب طواف نہ ہو سکا تو آپ نے 乡 ارشاد فرمایا کہ اب یہیں اپنی قربانیاں کر کے سروں کے بال منڈوا کے واپسی کی تیاری کرد مگر صحابیہ جو معاہد سے کی شرائط کی وجہ سے غم سے نڈھال تھے بیٹھے ہی رہے۔آپ خاموشی سے اُٹھے اور اپنے خیمے میں تشریف لے گئے۔ام المومنین حضرت امر ساریہ نے جو بڑی سمجھدار خاتون تھیں، آپ کو مشورہ دیا کہ اس وقت مسلمان غم سے نڈھال ہیں وگرنہ وہ نا فرمان نہیں ہیں۔آپ اپنا جانور قربان کر دیجئے اور اپنے بال منڈوائیے۔پھر دیکھئے مسلمان کس طرح آپ کے ساتھ عمل کر یں گے۔آپ کو اس ذہین خاتون کا مشورہ پسند آیا۔چنانچہ آپ نے اُسی طرح کیا۔مسلمان یہ دیکھ کر دیوانہ وار اُٹھے اپنے جانور ذبح کئے اور بال منڈوائے۔( صحیح بخاری جلدا (ص ۳)