ہجرت سے وصال تک — Page 76
24 کرتے تھے۔آپ کی نرمی کے با وجود اتنا غم و غصہ تھا کہ جب لشکر اسلامی مدینہ میں داخل ہونے لگا تو عبداللہ اپنے والد کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے اور اصرار کیا کہ وہ تسلیم کرے کہ رسول اللہ معزز ترین ہیں اور وہ ذلیل ترین ہے۔اور اس نے اقرار کیا۔ہم نے ابھی ذکر کیا تھا تو مصطلق کے ساتھ جنگ کا جس میں مسلمانوں کو فتح ہوئی تھی اس قبیلے کے کچھ لوگ جنگی قیدی بنالئے گئے تھے جن میں سے ایک قبیلے کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی بہترہ بھی تھی۔اُن کا شوہر جنگ میں مارا گیا تھا۔آپ نے اس خیال سے کہ اس قبیلے میں اسلام پھیلانے میں آسانی ہوگی تبرہ سے شادی کا فیصلہ کیا ان کا نام بدل کہ جویریہ رکھا۔جب صحابہ کرام کو علم ہوا کہ آپ نے اس قبیلے کے ساتھ رشتہ قائم فرمایا ہے تو سینکڑوں جنگی قیدی آزاد کر دیئے۔اس رشتے اور احسان کے نتیجے میں حضرت جویریہ کے والد سمیت اکثر قبیلے والوں نے اسلام قبول کرلیا۔بچہ۔مخالفین میں کچھ تو کمی ہوئی۔ماں۔مخالفین میں کمی ہوئی مخالفت میں نہیں۔بلکہ بہت زیادتی ہو گئی در اصل اسلام کی مسلسل ترقی اور کفار کی مسلسل شکست نے اُن کو آخری اور زیر دست تدبیر کرنے پر اُکسایا۔یہودی ذہن بڑے سازشی ہوتے ہیں۔قبیلہ بنو نضیر والے مدینے سے چلے تو گئے مگر زخم کھائے ہوئے تھے۔ان کی تجویز پر مکہ کے قریش ، سنجد کے قبائل غطفان وسلیم بیوردی