ہجرت سے وصال تک — Page 99
۹۹ واپس چلے جائیں گے۔آپ نے حضرت عثمانؓ سے فرمایا کہ کمزور مسلمانوں سے ملنے کی کوشش بھی کریں اور ان کی ہمت بڑھائیں اور کہیں کہ صبر کر ہیں خدا عنقریب کامیابی کے دروازے کھولنے والا ہے (زرقانی جلد ۲ ص) حضرت عثمان نے بڑی اچھی طرح سب باتیں مکہ والوں کے سامنے پیش کیں مگر وہ کسی صورت راضی نہ ہوئے بلکہ وہ شرارت تا حضرت عثمان اور ان کے ساتھیوں کو مکہ میں روک لیا۔وہ واپس نہ گئے تو مسلمانوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ حضرت عثمان نے قتل کر دیئے گئے ہیں۔بچہ۔آپ کو بڑی تکلیف ہوئی ہو گی۔حضرت عثمانؓ آپ کے دوست اور ہاں داماد بھی تھے۔جی بچے بہت تکلیف ہوئی آپ نے اعلان کروایا کہ سب مسلمان جمع ہو جائیں۔جب مسلمان ایک کیکر کے پیڑ کے نیچے جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا اگر یہ اطلاع درست ہے تو خدا کی قسم ہم اس جگہ سے اس وقت تک نہیں ملیں گے جب تک کہ عثمانی کا بدلہ نہ لے لیں۔آؤ اور میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر یہ عہد کہو کہ تم میں سے کوئی شخص بیٹھے نہیں دکھائے گا اور اپنی جان پر کھیل جائے گا مگر کسی حال میں اپنی جگہ نہیں چھوڑے گا۔اس پر صحابہ نے اتنی تیزی سے آگے بڑھ بڑھ کر بیعت کی کہ ایک دوسرے پر گرنے پڑتے تھے مسلمانوں کا یہ جوش و جذبہ اللہ پاک کو بہت پسند آیا۔قرآن کریم میں ارشاد ہے۔ترجمہ ور اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے خوش ہو گیا جبکہ اسے رسول ! وہ ایک درخت کے