ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 95 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 95

۹۵ نکلے مسلمانوں کو علم ہوا تو چھا گیا اور پکڑ کر انہیں بھی مار ڈالا مسلمان بہت صلح پسند ہوتے ہیں۔ہمارا دین ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے۔مگر جب حالات نہیں تلوار اُٹھانے پر مجبور کر دیں تو وہ بڑی بہادری سے لڑتے ہیں۔اب جو واقعہ آپ کو سنانے جارہی ہوں۔اس سے آپ کو اندازہ ہو گا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ و تم صلح کرنا کس قدر پسند فرماتے تھے۔مکہ والوں نے آپ سے کیا نہیں کیا مگر مکہ آپ کا وطن تھا۔آپ کو مکہ سے پیار تھا صرف اس لئے نہیں کہ مکہ میں آپ پیدا ہوئے تھے بلکہ اس لئے بھی کہ اللہ پاک نے یہ بھی فرمایا تھا کہ مکہ کی طرف توجہ لگائے رکھیں۔آپ اور مہاجرین کو مکہ تو یا دہی رہنا تھا ہم ھ کی بات کر رہے ہیں ابھی ذو قعدہ کا مہینہ شروع نہیں ہوا تھا کہ آپ نے خواب میں دیکھا کہ آپ صحابہ کرام کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کم رہے ہیں (سورۃ الفتح : ۲۸) اسلامی احکامات کے نازل ہونے سے پہلے بھی طواف عمرہ اور حج کا رواج تھا مگر اسلامی طریق بعد میں سکھایا گیا۔آپ نے اپنے صحابہ کو تحریک فرمائی کہ پر امن طریق پر صرف عمرے کی ادائیگی کے لئے بغیر سنتھیار لگائے مکہ چلتے ہیں۔چودہ سو صحابہ کرام تیار ہو گئے۔آپ ان کے ساتھ ذو قعدہ شہ کے شروع میں پیر کے دن صبح کے وقت مدینہ سے روانہ ہوئے۔ام المومنین حضرت ام سلمی بھی ہمراہ تھیں۔بچہ۔مدینے کا امیر کے مقرر فرمایا۔ماں۔آپ نے خوب یاد رکھا کہ آپ اپنی غیر حاضری میں مدینے میں امیر مقرر فرمایا کرتے تھے نمبیلہ بن عبد اللہ کو امیر اور عبد اللہ بن ام کلثوم کو امام الصلوۃ مقرر