ہجرت سے وصال تک — Page 85
۸۵ یہ دعا کیا کرو کہ وہ تمہاری کمزوریوں پر پردہ ڈالے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کرے اور تمہاری گھبراہٹ کو دُور فرمائے (مسند احمد بحوالہ زرقانی) اور آپ نے یہ دعا کی اسے دنیا میں اپنے احکام کو جاری کرنے والے خدا اور حساب لینے میں دیر نہ کرنے والے۔تو اپنے فضل سے کفار کے ان احزاب کو پسپا فرما۔اے میرے قادر تو ضرور ایسا ہی کری۔اور کفار کے مقابلہ پر ہماری مدد فرما اور ان کی طاقت پر زلزلہ وارد کر اسے تکلیف میں مبتلا لوگوں کی آہ و پکار سکتے والے ! اسے مضطر لوگوں کی دعاؤں کو قبول کرنے والے تو ہمارے غم اور فکہ اور بے چینی کو دور فرما کیونکہ جو مجھ پر اور میرے اصحاب پر اس وقت مصیبت دارد ہے وہ تیرے سامنے ہے (زرقانی) بچہ۔اللہ پاک نے ان دعاؤں کوشن کر ہمیشہ کی طرح اپنے فضل نازل کئے ہوں گے۔ناں۔بالکل ٹھیک بیچے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ایسا سامان ہوا کہ اُن کے شکر میں پھوٹ پر گئی۔ایک دوسرے سے بدظن ہو گئے۔آپس میں اختصات پیدا ہو گئے۔ایک یہ بھی الہی سامان پیدا ہوا کہ رات کو سخت آندھی چلی این مشام وزرقانی) کفار کے خیمے اکھڑ گئے۔ہنڈیاں اُلٹ کر چولہوں میں گر گئیں۔ریست کنکر کی بارش نے لوگوں کے کانوں ، آنکھوں اور تھنوں کو بھر دیا۔آگیں سمجھ گئیں۔کفار اتنے بددل ہوئے کہ ابو سفیان نے اپنے آدمیوں کو واپسی کا حکم دے دیا۔ان کو جانے کی اتنی جلدی تھی کہ صبح ہونے تک میدان خالی ہو چکا تھا۔یہ محاصرہ کم وبیش بیس دن جاری رہا۔