ہجرت سے وصال تک — Page 84
کے ساتھ بہت سے مفردات میں رہی ہوں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جس قدر سخت غزوہ خندق تھا ایسا کوئی اور نہیں گزرا اس غزوہ میں آپ کو بے انتہا تکلیف اور پریشانی برداشت کرنی پڑی اور صحابہ کی کی جماعت کو بھی سخت مصائب کا سامنا ہوا اور یہ دن بھی سخت سری اور مالی تنگی کے دن تھے ( تاریخ خمیس جلدا ص ۵۳) مسلمان عورتوں نے اس جنگ میں حصہ نہیں لیا تھا ؟ مان۔اچھا یاد دلایا۔اب مسلمان عورتوں کی بہادری کی بات بھی سن لو۔خطرے کے پیش نظر انحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو ایک قلعہ نما جگہ میں جمع کروا دیا تھا۔پہرے پر حضرت حسان بن ثابت تھے۔ہوا یہ کہ یہودیوں نے اس حصے کی کمزوری کا اندازہ لگانے کے لئے ایک جاسوس بھیجا حضرت صفية بن عبد المطلب جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں سمجھ گئیں کہ یہ جاسوس ہے اس کا زندہ واپس جانا خطرے سے خالی نہیں۔حضرت صفیہؓ نے حسان بن ثابت سے کہا کہ اسے قتل کر دینا چاہیئے۔اُن کی ہمت نہ پڑی تو خود یہودی کا مقابلہ کیا اور اُسے مارگرایا لاین مشام ) اور اُنہیں کے کہنے پر یہودی جاسوس کا سرکاٹ کر قلعہ کے اُس پاپر گرا دیا گیا جہاں مہوری جمع تھے۔یہودی اپنے ایک ساتھی کا انجام دیکھ کر وہاں سے ہٹ گئے۔بچہ۔جنگ بدر اور جنگ احد کی طرح اس جنگ میں بھی آپ نے بہت دعائیں کی ہوں گی۔ماں۔جی بچے۔دعا ہی بڑا سہارا تھا۔آپ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ تم خدا سے