ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 66 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 66

بچہ۔پھر آپ نے سنجد کے قبائل سے جنگ کی ؟ f ماں۔نہیں آپ نے کوئی جنگی کارروائی نہیں کی البتہ اس خبر کے بعد برابر تنیس دن تک آپ نے ہر روز صبح کی نماز کے قیام میں نہایت عاجزی سے ان قبائل کا نام لے لے کہ دعا کی کہ اسے میرے آقا تو ہماری حالت پر رحم فرما اور دشمنان اسلام کے ہاتھ کو روک جو تیرے دین کو مٹانے کے لئے اس بے رحمی اور سنگ دلی کے ساتھ بے گناہ مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں۔(سنجاری ابواب سیر معونہ روایت ابو طلحہ عن انس ) صرف مسجد کے قبائل ہی نہیں مدینے کے یہودی قبائل بھی باوجود معاہدے کے شرارتیں کرتے رہتے اور مسلمانوں کو تنگ کرنے کے منصوبے بناتے۔بچہ۔آپ نے بتایا تھا کہ بنو قینقاع کو مدینے سے نکال دیا تھا۔ماں۔ان کے بعد بنو نضیر کے خلاف فوج کشی کرنی پڑی۔ان بد بختوں نے تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر بھی حملہ کیا۔آپ ایک مکان کے سائے میں دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ان لوگوں نے پروگرام بنایا کہ اُوپر سے ایک بڑا پتھر لڑھکا دیا جائے جیسے کہ اتفاق سے گرا ہے۔ایک شخص بھاری پتھر لے کر اوپر چڑھ بھی گیا لیکن آپ کے دوست آپ کے والی اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے یہود کا منصوبہ بنا دیا۔آپؐ وہاں سے تیزی سے اُٹھے اور مدینے آگئے۔یہودیوں نے ایک اور کوشش کی اور وہ بہت خطر ناک تھی۔اس دفعہ یہ منصوبہ بنایا کہ مذہبی مناظرے کی دعوت دی جائے۔جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئیں تو