ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 67 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 67

46 یہودی علماء آپ پر حملہ کر دیں۔اس دفعہ اس منصوبے کی اطلاع ایک عورت نے اپنے بھائی کو دی جس سے سارا منصوبہ گھل گیا اور آپ محفوظ رہے را این مرد و به بحوالہ زرقانی حالات بنو نصیر) اتنی سرکشی کی وجہ سے اُن کو سزا دینا ضروری ہو گیا۔آپ فوج لے کہ آئے تو بنو نضیر قلعہ بند ہو کر بیٹھ گئے۔پندرہ دن کی قلعہ بندی کے بعد آخر بنو نضیر نے ہار مان لی اور درخواست کی کہ ہمیں مدینے سے نکل جانے کی اجازت دی جائے۔آپ نے تو کبھی بھی قتل و غارت نہیں چاہتی تھی اجازت مرحمت فرمائی اور وہ اپنے سارے ساز و سامان کے ساتھ بڑی دھوم دھام سے برات کی طرح گاتے بجاتے مدینے سے نکل گئے (طبری) قرآن پاک میں سورہ حشر میں اسی واقعے کی تفصیل بیان فرمائی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ بڑا پیارا ہے۔اپنے پیاروں کی خود حفاظت فرماتا ہے۔جب آپ پتھر والا واقعہ بیان کر رہی تھیں تو میں بے حد خوفزدہ تھا اور پھر خنجروں سے حملے سے بھی ڈرا۔ماں۔جس سے پیار ہوتا ہے اُس کی سلامتی کی فکر تو ہوتی ہے مگر اب ہمیں اللہ تعالیٰ کی رحمت پہ اتنا بھروسہ ہونا چاہیے کہ کبھی مایوس نہ ہوں سی کے واقعات میں آپ کی ایک شادی کا ذکر کروں گی۔آپؐ کے ایک پھوپھی زاد بھائی عبداللہ بن جحش جنگِ اُحد میں شہید ہو گئے تھے۔اُن کی بیوہ حضرت زینب بنت خزیمہ سے آپ نے نکاح کیا مگر چند ماہ بعد ہی آپ وفات پاگئیں۔آپ بہت نیک اور پارسا بی بی تھیں۔صدقہ و خیرات