ہجرت سے وصال تک — Page 53
۵۳ یاد دلایا مگر وہ نیچے اُتر آئے ہیں پانچ سات مسلمان اُن کے ساتھ رہ گئے۔خالد بن ولید بڑا ہشیار سپاہی تھا۔اس کو اندازہ ہو گیا کہ درہ خالی ہے اپنے چند ساتھیوں کو جمع کیا۔اس کے ساتھ عکرمہ بن ابو جہل بھی بچے کھچے سپاہی نے کہ آگیا۔عبد اللہ بن جبیر اور اُن کے ساتھیوں کو شہید کر دیا اور مال غنیمت جمع کرنے میں مصروف فتح کے خیال سے مسرور مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کر دیا۔یہ جملہ اتنا اچانک تھا کہ مسلمان جلدی سے سنبھل نہ سکے پھر کفار نے یہ مشہور کر دیا کہ کفار نے سامنے سے بھی حملہ کر دیا ہے ایک عورت نے گرا ہوا جھنڈا اٹھا لیا جھنڈے کو دیکھ کر کفار پھر اکٹھے ہونے گے۔ہر طرف سے گھیراؤ کی صورت نے گھبراہٹ پیدا کر دی۔بعض مسلمان آپس میں ہی لڑنے لگے۔ایک بے درد کا فر نے آپ کے چچا حضرت حمزہ کو بھی شہید کر دیا مسلمان عورتوں نے بڑی بہادری سے اپنے زخمیوں کو پانی پلایا۔کاش درے والے اپنی جگہ نہ چھوڑتے مسلمانوں کو اتنا بڑا نقصان نہ اُٹھا نا پڑتا۔فتح شکست میں بدل گئی ماں۔یہ بات تو بالکل درست ہے کہ جو فرض سونپا جائے اُسے جان کی بازی لگا کر بھی پورا کرنا چاہئیے۔دوسرے فتح شکست میں نہیں بدلی البتہ اس فتح کی بہت قیمت ادا کرنی پڑی۔بہت سے صحابہ شہید اور زخمی ہوئے، فرش کے ایک سپاہی عبد اللہ بن قمیہ نے مسلمانوں کے علم بردار حضرت مصعیت بن عمیر پر حملہ کیا جس سے آپ کا دایاں ہا تھ کٹ گیا۔حضرت مصعب نے