ہجرت سے وصال تک — Page 16
14 ارض ماں۔جی بچے وہ زمانہ سادگی کا زمانہ تھا گھروں میں چراغ نہیں جلتے تھے جب تک سورج کی روشنی رہتی دن رہتا جب سورج ڈھلتا رات ہو جاتی۔وقت دیکھنے کے لئے گھڑیاں نہیں ہوتی تھیں۔نماز دھوپ چھاؤں کے اندازے سے ہوتی۔نمازہ یا کسی اور کام کے لئے بلانا ہوتا توحضرت بلال بلند آواز سے کہتے ، الصلوہ جامعہ لوگ اکٹھے ہو جاتے۔خدا تعالیٰ کا کہنا کیا ہوا کہ ایک صحابی حضرت عبداللہ بن زید انصاری اور حضرت عمر فاروق رض کو خواب میں اذان کے الفاظ سُنائے گئے دونوں حضرات نے آگرہ آپ کو اپنا اپنا خواب سنایا۔آپ نے فرمایا کہ انہیں الفاظ میں اذان دی جایا کرہ سے کیونکہ آپ کو بھی وحی میں اذان کے وہی الفاظ سکھائے گئے تھے۔انہیں دنوں ظہر، عصر اور عشاء میں دورکعتوں کی جگہ چار رکھتیں فرض ہوئیں۔آپ مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی پر بہت تاکید فرمایا کرتے تھے۔بچہ۔کیا مدینے میں لوگوں نے جلدی جلدی اسلام قبول کیا تھا۔ماں۔مدینے کے لوگ تو جیسے منتظر بیٹھے تھے وہاں یہ بھی ہوا کہ مختلف نہ ہوں کے ماننے والے بھی اسلام میں داخل ہوئے پہلے یہودی جس نے اسلام قبول کیا حصین تھے جن کا نام آپ نے عبداللہ نہ رکھا وہ پڑھے لکھے آدمی تھے۔پہلے فارس یعنی علاقہ ایران کے رہنے والے مسلمان حضرت سلمان فارسی تھے بے حد نیک دل انسان تھے آپ کو اُن سے بہت محبت تھی ایک دقعہ تو فرمایا کہ سلمان ہمارے گھر کے آدمی ہیں۔