ہجرت سے وصال تک — Page 134
۱۳۴ سہارا دیا ہوا تھا تا کہ آپ کو سانس لینے میں دشواری نہ ہو۔آپ نے حضرت عائشہ کے بھائی عبد الرحمن کے ہاتھ میں مسواک دیکھی تو اشارے سے طلب فرمائی منہ دانت اچھی طرح صاف فرمائے ، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ آپؐ آہستہ آہستہ کوئی دعا پڑھ رہے تھے تو میں نے سنا آپ فرمارہے تھے إلى الرفيق الاعلى الى الرفيق الاعلیٰ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں اکثر سول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتی تھی کہ آپ فرمایا کرتے تھے اللہ تعالیٰ ہر بنی کو ان کے انتقال سے پہلے دنیا میں رہتے یا جنت میں تشریف لے جانے کے بارے میں اختیار دیتا ہے جب آپ کے منہ سے یہ جملہ سنا تو سمجھ گئی کہ آپ نے اپنے حقیقی آقا کے حضور حاضر ہونے کو دنیا میں رہنے پر ترجیح دی ہے۔آپ اللهم في الرفيق الأعلیٰ کہتے ہوئے دوپہر کے قریب دوشنبہ کے روز ۱۲ ربیع الاول سانحہ مطابق ۲۶ مئی سنہا اپنے رفیق اعلیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔انا للہ وانا اليه راجعون اللهم صل على محمد وعلى ال محمد و بارك و سلم إنك حميد مجيد صحابہ کرام کو آپ کی وفات سے سخت صدمہ پہنچا۔حتی کہ حضرت عمرض تو مانتے ہی نہیں تھے کہ رسول اللہ فوت ہو گئے ہیں۔حضرت ابو بکر رض حضرت عائشہ کے حجرے میں آئے اور انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پر سے چادر ہٹا کر پیشانی مبارک کو بوسہ دیا اور کہا انت