ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 125 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 125

۱۲۵ فرمایا یہ علی یہ لوگ جھوٹے ہیں میں نے تمہیں گھر بابہ کی حفاظت کے لئے چھوڑا ہے۔انت منی بمنزلة هارون من موسى تم مجھے ایسے ہی ہو جیسے موسی کے لئے ہارون مگر فرق یہ ہے کہ تم نبی نہیں ہو " حضرت علی خوش خوش واپس آگئے۔تبوک کے قیام کے دوران ایک ملک ریلہ کا بادشاہ یمینہ بن رو بہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جزیہ دینا قبول کر لیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے صلح کرلی اور ایک تحریر بھی ضمانت کے طور پر لکھ کر دی۔بینی کندہ کے بادشاہ اکیدر کی طرف حضرت خالد بن ولید کو بھیجا۔اُسے شکست ہوئی اکیدر کا بھائی حسان مارا گیا اس کا سرپوش پیر اتنا قیمتی کپڑا اور سونا لگا ہوا تھا کہ جب وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا گیا تو صحابہ حیران ہو کر دیکھنے لگے آپ نے فرمایا۔قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے جنت میں سعد بن معاذ ف کے رومال اس سے بہتر ہیں۔(ابن ہشام (۳۳) آپ نے اکیدر سے بھی جزیہ لینا قبول کر کے صلح کرلی۔بچہ۔اس طرح کافی علاقے کے لوگ مسلمان ہو گئے یا مسلمانوں کے ماتحت ہو گئے۔ماں۔بات دراصل یہ ہے کہ اردگرد کے لوگ قریش مکہ سے اُن کے رعب اور کعبہ کے مالک ہونے کی وجہ سے خوفزدہ رہتے تھے۔اب فتح مکہ کے بعد ان کا اثر اور رعب جاتا رہا۔رسول للہصلی اللہ علیہ وسلم کے دینِ