ہجرت سے وصال تک — Page 123
کہ اپنے رشتہ دار قریشی سرداروں کو زیادہ مال عطا فرمایا ہے۔آپ کو علیم ہوا تو انصار کو ایک احاطہ میں جمع کروایا ایک مختصر سی تقریر فرمائی۔جس میں انصار یہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر فرمایا ہے کہ پہلے کس حال میں تھے پھر اللہ پاک نے ہدایت سے نوازا مال و دولت عطا فرمایا۔اتحاد کی طاقت عطا فرمائی۔رسول اللہ کی تائید تصدیق اور حمایت کی توفیق دی پھر فرمایا۔اسے انصار کیا تم دنیا کی حقیر شے کے لئے رنجیدہ اور غمگین ہو۔میں نے اُن لوگوں کو مال دیا ہے جن کو اسلام کی طرف راغب کرنا چاہتا تھا اور تمہیں اسلام کے سپرد کیا ہے۔اسے انصار کیا تم اس بات پر راضی نہیں کوئی اُونٹ لے جائے کوئی بکری لے جائے اور تم رسول اللہ کو ساتھ لے جاؤ" پھر آپ نے انصار کو محبت بھری دعائیں دیں وہ ندامت اور محبت میں اس طرح رو ر ہے تھے کہ داڑھیاں گیلی ہوگئیں اور وہ کہہ رہے تھے۔ہم رسولِ خدا کی تقسیم پر دل و جان سے راضی ہیں ؟ بیچہ۔پیارے آقا نے کس طرح اُن کو خوش کر دیا۔سبحان اللہ۔ماں - شہ میں ایک اور جنگ ہوئی ، جنگ موتہ کا بدلہ لینے کے لئے عرب کے عیسائیوں نے چالیس ہزار کا لشکر تیار کیا جس کی اطلاع پاکر آپ نے بھی مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا سخت گرمی کا موسم تھا ابھی غلہ اور پھل تیار نہ ہوئے تھے۔مالی تنگی بھی تھی شکر کی تیاری پر بڑا خرچ ہوتا ہے