ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 121 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 121

۱۲۱ کی عادتوں میں شامل تھا۔مکہ میں فتح ہوئی تو مکہ اور طائف کے درمیان وادی حنین کے قبیلہ ثقیف اور ہوازن کے لوگوں نے یہ سوچ کر کہ اگر مسلمانوں کا دید یہ بڑھتا رہا تو بڑے فکر کی بات ہے اُن کا زور توڑنا چاہیے۔فوج جمع کرنی شروع کر دی۔آپ کو علم ہوا تو مسلمانوں کی بارہ ہزار فوج لے کر جنین کی طرف کا رخ کیا مسلمان سمجھ رہے تھے اب ہم پر کون غالب آ سکتا ہے اللہ پاک نے یہ سبق دنیا تھا کہ فتح اللہ تعالی کی مدد سے ہوتی ہے تعداد میں زیادہ ہونے سے نہیں۔لڑائی شروع ہوئی تو مخالفین کی زبر دست نیزہ بازی سے مسلمان بکھر گئے۔آپ نے مسلمان فوج کو پھر سے جمع کیا اور اللہ تعالیٰ سے بہت دُعا کی۔ایک ہی بہتے میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوگئی۔ستر کفار مارے گئے بہت سا مال غنیمت ہاتھ لگا۔دشمن شکست کھا کہ قریبی علاقوں طائف ، اوطاس اور نخلہ کی طرف بھاگ گئے ان کا زور توڑنا ضروری تھا چنانچہ مسلمان دستوں نے ان کا پیچھا کر کے شکست دی اور یہ علاقے بھی فتح ہو گئے۔آپ اپنی فوج کو ہدایات فرماتے تھے کہ عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کیا جائے۔مالِ غنیمت کی تقسیم اس طرح ہوتی کہ پانچواں حصہ بیت المال کے لئے نکالا جانا باقی مال سپاہیوں میں تقسیم کر دیا جاتا۔مال غنیمت کی تقسیم مقام جعرانہ میں ہوئی۔وہیں قبائل ہوازن کی طرف سے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔بچہ۔یہ نام پہلے بھی سُنا ہے۔ماں۔جی ہاں آپ کی دایہ حلیمہ قبیلہ ہوازن سے تعلق رکھتی تھیں۔اُن لوگوں نے