ہجرت سے وصال تک — Page 100
نیچے تیری بیعت کہ رہے تھے۔کیوں کہ اس بیعت سے اُن کے دلوں کا مخفی اخلاص خدا کے ظاہری علم میں آگیا۔سوخدا نے بھی ان پر سکینت نازل فرمائی اور انہیں ایک قریب کی فتح کا انعام عطا کیا۔(سورۂ فتح : ۱۹) بچہ۔مسلمان کتنے خوش ہوئے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے خوش ہوا۔ماں۔جی بچے اس بیعت کا نام ہی بیعت رضوان ، ہے یعنی وہ بیعت جس میں مسلمانوں نے خدا تعالیٰ کی خوشنودی کا انعام حاصل کیا۔جب مکہ میں اس بیعت کی اطلاع ملی تو وہ خوف زدہ ہو گئے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھیوں کو رہا کر دیا۔اس کے ساتھ ہی یہ کوشش کرنے لگے کہ صلح ہو جائے تو اچھا ہے۔چنانچہ اس غرض سے سہیل بن عمرو معاہدہ کے لئے آپ کے پاس پہنچا۔آپ نے حضرت علی ضمہ کو معاہدے کی شرائط لکھنے کے لئے بلایا حضرت علی ام آپ کی طرف سے خط و کتابت کیا کرتے تھے۔آپ نے حضرت علیؓ سے فرما یا لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم سہیل بن عمرد بولا ہم تو رحمن کو نہیں مانتے۔جیسے پہلے لکھا جاتا تھا ویسے ہی لکھا جائے۔چنانچہ آپؐ نے اُس کی بات مان لی اور باسْمِكَ اللهُم الفاظ لکھوائے۔پھر آپ نے لکھوایا " یہ وہ معاہدہ ہے ہو محمد رسول الله نے کیا ہے بہیل نے پھر اعتراض کیا۔ہم تو آپ کو رسول اللہ نہیں مانتے۔آپ نے پھر اُس کی بات مان کہ حضرت علیؓ سے فرمایا۔رسول اللہ کی جگہ ابن عبد اللہ لکھ دو۔حضرت علی نظم کو گوارا نہ ہوا کہ اپنے ہاتھ سے رسول اللہ کے لفظ کاٹتے۔آپ نے حضرت علی سے پوچھا کہ یہ الفاظ کہاں لکھے