ہجرت سے وصال تک — Page 89
اور آپ کے دین سے اور آپ کے شہر سے سب سے زیادہ دشمنی تھی۔لیکن اب مجھے آپ کی ذات اور آپ کا دین اور آپ کا شہر سب سے زیادہ محبوب ہیں۔(بخاری کتاب المغازی باب و قدینی حنیفہ) پھر ٹامہ عمرے کے لئے خانہ کعبہ چلے گئے اور بڑے جوش و خروش سے تبلیغ شروع کی۔آپ کی تبلیغ سے یمامہ میں کثرت سے اسلام پھیلا۔یہودیوں کے مدینے سے نکل جانے کی وجہ سے اب وہ مدینے سے کچھ فاصلے پر رہ کر چھیڑ چھاڑ کرنے کے نئے نئے طریق اختیار کرتے۔جب بھی آپ کو ان کی مخالفانہ سرگرمیوں کی اطلاع ملنی آپ مدینہ سے مسلمانوں کا دستہ روانہ فرماتے اس طرح مسلمانوں کی کئی مرتبہ سفر کرنے پڑے۔ربیع الاول سنہ ہجری میں قبیلہ بنی اسد کی شرارت کی اطلاع پاکر ایک مہاجر صحابی عکاشہ بن محصن کو روانہ کیا گیا ان کی آمد کی اطلاع پاکر قبیلہ کے لوگ ادھر اُدھر بھاگ گئے اس کو غزوہ عکاشہ بن محصن کہتے ہیں۔ربیع الآخر میں مدینہ سے چوبیس میل کے فاصلے پر ذوالقصہ کی طرف محمد بن مسلمہ اور ابو عبیدہ بن الجراح کو روانہ کیا گیا۔اس کو سر د محمد بن مسلمہ کہتے ہیں۔اسی مہینے قبیلہ بنی سکیم کی طرف حضرت زید بن حارثہ کو بھیجا گیا اس کو سریہ زید بن حارثہ کہتے ہیں۔اگلے مہینے یعنی جمادی الاولی میں پھر حضرت زید بن حارثہ کو مدینہ سے چار دن کی مفت پر عیص کے مقام پر بھیجا گیا۔ان سب واقعات میں دشمن ادھر اُدھر بھاگ جاتے اور مسلمان فتح یاب ہوتے عیص سے جو قیدی پکڑے گئے