ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 79 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 79

69 میں روز کے روز محنت مزدوری کر کے روزی کمانے تھے۔اب خندق کی کھدائی میں لگے تو کھانے کو کہاں سے لاتے ہوا یہ کہ سب فاقوں سے ڈھال ہو گئے۔اسی کمزور حالت میں سخت جسمانی محنت کرتے۔کھدائی میں ایک سخت ضدی پتھر نکلا جو ٹوٹنے میں نہ آتا تھا۔صحابہ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی آپ تشریف لائیے آپ کے پیٹ پر بھی بھوک سے پتھر بندھا تھا۔آپ نے کدال اُٹھا کر پتھر پہ مارا تو ایک شعلہ نکلا۔تھوڑا سا پتھر ٹوٹا آپ نے زور سے اللہ اکبر کہا۔دوسری دفعہ پھر کدال چلائی تو پھر شعلہ نکلا تھوڑا سا اور پھر ٹوٹا آپ نے پھر زور سے اللہ اکبر کہا۔تیسری دفعہ کدال چلانے پر پھر شعلہ نکلا آپ نے اللہ اکبر کہا پتھر بالکل ٹوٹ گیا۔صحابہ نے ہر دفعہ ضرب سے پتھر ٹوٹنے پر اللہ اکبر کہنے کی وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا۔پہلی دفعہ مجھے مملکتِ شام کی چابیاں دی گئیں اور خدا کی قسم شام کے سرخ محلات مجھے دکھائے گئے دوسری دفعہ فارس کی چابیاں دی گئیں اور مدائن کے سفید محلات مجھے دکھائے گئے۔تیسری دفعہ یمین کی چابیاں دی گئیں اور صنعاء کے دروازے دکھائے گئے۔بچہ۔اللہ تعالیٰ کتنا پیارا ہے۔فاقوں کی تکلیف میں فتوحات کی خوشخبریاں دے کم حوصلہ دیا۔ماں۔جی بچے۔پیارے اللہ کو خوش کرنے کے لئے تو یہ سب ہر طرح کی قربانی کر رہے تھے بھوک میں محنت کا کام بڑا مشکل ہوتا ہے ایک صحابی جابر بن عبد اللہ نے آپ کی طرف دیکھا آپ کے چہرے پر بھوک سے