ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 77 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 77

66 قبیلہ بنو سعد اور گردو نواح کے چھوٹے چھوٹے قبائل سب ساتھ مل گئے (ابن ہشام وابن سعد) ان کی تعداد کا اندازہ دس ہزار سے چو ہیں ہزار تک تھا۔عرب میں اتنی بڑی فوج کبھی اکٹھی نہیں ہوئی تھی۔اس فوج کے ہر حصے کا الگ کمانڈر تھا مگر ساری فوج کا سپہ سالار ابو سفیان بن حرب تھا۔یہ لشکر شوال سنہ ہجری مطابق فروری مارچ ۲۶ہ مدینہ کی طرف بڑھنا شروع ہوا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لشکر کی اطلاع پا کر صحابہ کو مشورے کے لئے بلایا حضرت سلمان فارسی کا مشورہ کہ مدینہ کا شہر تین طرف سے قدرتی طور پر محفوظ ہے چوتھی طرف خندق کھود دی جائے حضور نے منظور فرمایا۔پیچہ۔عربوں میں اس سے پہلے خندق کھود نے کا رواج تھا۔ماں۔نہیں بیٹا۔حضرت سلمان فارسی کا تعلق ایران سے تھا وہ اس طریق سے واقف تھے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مشورے سے خندق کھودنے کا فیصلہ فرمایا قریباً پندرہ پندرہ فٹ کے فاصلے پر نشان لگوائے اور دس دس صحابہہؓ کو ایک ایک حصہ کھودنے پر مقرر فرما با سخت سردی کے دن تھے۔مالی تنگی بھی تھی پھر بھی صحابہ نے بڑے شوق سے مزدوروں کی طرح کام شروع کیا۔کچھ آدمی کھدائی کرتے کچھ کھری ہوئی مٹی اور پتھر ٹوکریوں میں بھر بھر کر باہر پھینکتے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی کام میں شرکت فرماتے اور ان میں حوصلہ قائم رکھنے کے لئے دعائیہ شعر پڑھتے صحابیہ بھی آواز میں آواز ملاتے۔ایک صحابی کی روایت ہے کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ