ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 50 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 50

محفوظ رہنا چاہتے تھے کہ پیچھے سے کوئی حملہ کرے۔اُس پہاڑی میں ایک درہ سا تھا۔اُس طرف سے خطرہ ہو سکتا تھا۔آپؐ نے حضرت عبداللہ بن جبیر کی سرداری میں پچاس تیرانداز صحابی درے کی حفاظت کے لئے مقرر فرمائے اور انہیں تاکید کی ” دیکھو یہ درہ کسی صورت میں خالی نہ رہے حتی کہ اگر تم دیکھ لو کہ ہمیں فتح ہو گئی ہے اور دشمن شکست کھا کے بھاگ گیا ہے تو پھر بھی تم اس جگہ کو نہ چھوڑنا اور اگر تم دیکھو کہ پرندے ہمارا گوشت نوچ رہے ہیں تو پھر بھی تم یہاں سے نہ ہٹنا حتی کہ تمہیں یہاں سے ہٹ آنے کا حکم ہو۔“ بخاری کتاب الجهاد باب ما يكره من التنازع ) اس حکم کے ساتھ آپ کو پشت کی طرف سے اطمینان ہو گیا۔قریش کے شکر نے اس طرح صف بندی کی کہ ابوسفیان سپہ سالار تھا۔فوج کے دائیں حصے کا سردار خالد بن ولید، بائیں طرف عکرمہ بن ابوجہل تھا۔تیراندازوں کا سالار عبد اللہ بن ربیعہ تھا اور عورتیں مجھے دف بجا بجا کہ شعر گا گا کہ مردوں کو جوش دلا رہی تھیں۔بچہ۔یہ مقابلہ بھی پہلے ایک ایک بہادر سے شروع ہوا۔ماں۔جی ہاں قریش مکہ کی طرف سے ابو عامر بڑے تکبر سے آگے بڑھا مسلمانوں نے ایسے پتھر پہ سائے کہ وہ اور اس کے ساتھی بدحواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے۔اُن کی بنہ ولی کو دیکھ کر کفار کے لشکر میں سے طلحہ دندناتا ہوا آگے آیا۔حضرت علیؓ نے دو چار ہا تھ تلوار کے ایسے مارے کہ کاٹ