ہجرت سے وصال تک — Page 49
3 ۴۹ غداری کی وہ شروع سے ہی منافق تھا۔منہ سے کہتا تھا میں مسلمان ہوں مگر دل میں مسلمانوں سے نفرت تھی۔ایسے وقت میں جبکہ جنگ ہونے والی تھی سپاہیوں کی بے حد ضرورت تھی وہ اپنے تین سو سا تھیوں کے ساتھ واپس چلا گیا۔اب مسلمانوں کی تعداد صرف سات سو رہ گئی۔ایک سو زرہ پوش اور صرف دو گھوڑے تھے۔بچہ۔اور کفار کا لشکر تین ہزار فوجیوں پرمشتمل تھا جن میں سات سو زرہ پوش سپاہی دو سو گھوڑے، تین ہزار اونٹ اور بے شمار سامانِ جنگ تھا۔یہ تو کوئی مقابلہ ہی نہ ہوا۔ماں۔مسلمانوں کے ساتھ اللہ پاک کی مدد تھی۔اس وقت ہم یہ بھی تو اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کو اللہ پاک اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیسا پیار تھا۔اور وہ کتنے صابر اور توکل کرنے والے تھے۔دین کی خاطر اپنی جان کی بالکل پرواہ نہ تھی۔یہ اُن کے ایمان کو ناپنے کا پیمانہ بھی ہے۔منافق واپس چلے گئے تو بعض اصحاب گھبرائے مگر زیادہ تر پکے ارادے کے ساتھ بظاہر موت کے منہ میں جانے کے لئے تیار تھے جہاں اللہ اور اُس کا رسول نے جائے وہیں زندگی ہے وہیں موت ہے۔اب میں آپ کو جنگی پوزیشن کے متعلق بتاؤں گی۔بعد کے حالات کو سمجھنے کے لئے یہ پوزیشن ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔اُحد کی پہاڑی مدینہ سے تین میل شمال کو تھی آپ نے فوج کو اس طرح کھڑا کیا کہ فوج کی پشت اُحد کی طرف اور منہ مدینہ کی طرف تھا۔اس طرح آپ اس خطرے سے