ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 31 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 31

۳۱ ہو رہے تھے۔انہوں نے اصل تعداد کھوجنے کے لئے ایک شخص عمیر کو بھیجا۔اس نے مسلمانوں کی فوج کے گرد چکر کاٹا مسلمانوں کا جوش و جذبہ دیکھا اور جا کہ رپورٹ دی کہ مسلمان فوج میں سواریوں پر مونیں اور ہلاکتیں سوار ہیں اُس کی حالت دیکھ کر اور بیان سن کہ قریش کے حوصلے اتنے کم ہوئے کہ بعض نے واپس جانے کے مشورے دیئے مگر ابو جہل نے ڈٹے رہنے کا فیصلہ کیا۔بچہ۔ایسا لگتا ہے کہ اللہ پاک اُن کو گھیر کر لایا ہی سزا دلوانے کے لئے تھا اور وہ بھی ان کمزور مسلمانوں کے ہاتھوں جن کو مکہ سے نکالا تھا۔ماں۔آپ ٹھیک سمجھے ہیں اصل طاقت در تو خدا تعالیٰ کی ذات ہے مسلمان کون تھے ؟ وہی جو پہلے مشرک تھے بتوں کو پوجتے تھے۔پیارے آقا کی آواز سن کر مشرک چھوڑ کہ ایک خدا اور ایک رسول کے ماننے والے نیک لوگ بن گئے اللہ تعالیٰ کا فضل اُن کے ساتھ تھا۔کامیابی کے وعدے اُن کے ساتھ تھے مسلمانوں کو خدا تعالیٰ پر بھروسہ تھا اور کافروں کو سامان جنگ پر، خاندانی برتری پر اور تعداد کی کثرت پر غرور و ناز تھا۔اب دیکھو کس طرح اللہ پاک نے ساتھ دیا اُس زمانے کے دستور کے مطابق عام حملے سے پہلے دونوں فوجوں کے مانے ہوئے بہادر سامنے آکر لڑتے تھے کافروں کی طرف سے عقبہ اپنے بھائی شیعہ اور بیٹے ولید کے ساتھ آگے بڑھا۔آپ نے حضرت حمزہ ، حضرت علی اور حضرت عبیدہ کو آگے بڑھایا۔کفار کے تینوں بہادر مارے گئے اب عام