ہجرت سے وصال تک — Page 30
۳۰ سے کہا " یا رسول اللہ آپ کو خدا تعالے نے حق وانصاف کے ساتھ بھیجا ہے مگر آپ نے مجھے ناحق تیر مارا ہے خدا کی قسم میں تو بدلہ لوں گا۔" آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات سُن کہ اپنے سینے سے کپڑا ہٹا دیا اور فرمایا " اچھا سواد تم بھی تیر مار لو۔“ بچہ۔کیا مواد کو آپ سے پیار نہیں تھا بدلے کا کیوں سوچا۔ماں۔صحابہ تو آپ سے بے حد پیار کرتے تھے۔آپ میں تو سہی سواد نے کیسے بدلہ لیا۔آگے بڑھے اور آپ کے سینہ مبارک کو چوم کر کہا کہ دشمن سے مقابلہ ہے پتہ نہیں جینا ہے یا مرتا ہے میں نے سوچا شہادت سے پہلے آپ کے جسم مبارک کو اپنے جسم سے چھو جاؤں۔دیکھا کتنا عشق تھا صحابہ کرام کو اپنے محبوب آقا سے ! آپ ابھی صفیں درست فرما رہے تھے کہ قریش کے لشکر کی پیش قدمی کی اطلاع ملی۔قرآن پاک میں ان کا ذکر ہے۔اسے مسلمانو ! تم ان کفار کی طرح مت بنو جو اپنے گھروں سے تکبر اور نمائش کا اظہار کرتے ہوئے نکلے تھے اور ان کی غرض یہ تھی کہ اللہ کے دین کے رستے میں جبری طور پر روکیں پیدا کریں مگر اللہ نے ان کی کارروائیوں کا محاصرہ کر کے انہیں خاب د خاسر کر دیا۔(انفال : 4) اللہ پاک کی قدرت مسلمانوں کی مدد گار تھی مسلمانوں کو قریش اُن کی اصل تعداد سے کم نظر آرہے تھے جس کے نتیجے میں اُن کے حوصلے بلند ہوئے۔جبکہ قریش کو مسلمانوں کی فوج دوگنی نظر آرہی تھی جس سے وہ مرعوب