ہجرت سے وصال تک — Page 18
IA کی مدد کی جس سے وہ اپنا سارا غم بھول گئے اور ایسے لگنے لگا کہ اپنے ہی گھر میں بیٹھے ہیں۔بچہ۔یہ بات مخالفین کو تو بالکل پسند نہیں آئی ہوگی۔ماں۔مخالف تو مخالف ہوتے ہیں وہ تو مسلمانوں کی ترقی دیکھ ہی نہیں سکتے تھے مگر آپ اللہ پاک کی ہدایات سے ایسے معاشرے کی بنیاد رکھ رہے تھے جو اسلامی معاشرہ تھا ایک طرح اسلامی حکومت قائم ہو رہی تھی۔اصلاحی اور انتظامی کاموں کے لئے امن کی ضرورت تھی۔مدینے میں یہودی قبائل بھی بستے تھے آپ نے یہودی قبائل کو مشرک قبائل کو مسلمان مہاجرین و انصار کو جمع کیا اور امن قائم رکھنے کے لئے ایک معاہدہ کیا۔اس معاہدے کے دس نکات تھے۔اس معاہدے کے بعد سب امن سے رہنے کے پابند ہو گئے اور آپ کے فیصلوں پر عمل کرنے کے وعدے کے ساتھ آپ کی سرداری کو بھی مان لیا۔بیچہ۔مکہ کے کفار تک بھی یہ خبریں پہنچ رہی ہوں گی بہت جلتے ہوں گے۔ماں۔اور جلن میں نئی نئی تدبیریں بھی سوچتے تھے۔انہوں نے ایسا کیا کہ مدینہ میں جن لوگوں سے مدد کی توقع تھی انہیں خطوط لکھے کہ مسلمانوں کی حمایت چھوڑ دو ورنہ ہم سب جمع ہو کر تم سے جنگ کریں گے مسلمان اُن کے خطرناک ارادوں سے واقف تھے اس لئے دن رات ہتھیار لگائے رکھتے کہ کہیں دشمن اچانک حملہ نہ کر دے مسلمانوں کی حفاظت کا سب سے زیادہ فکر ہمارے آقا کو رہتا۔اکثر راتیں جاگتے گذر ہیں۔