ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 105 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 105

۱۰۵ بچہ۔کتنا اچھا لگا ہوگا پیارے آقا کو۔صدر یعیہ میں مسلمان کتنا عرصہ ٹھہرے۔ماں۔تقریباً ہمیں دن قیام رہا۔وہاں سے واپسی کے سفر میں سورہ فتح نازل ہوئی جس کی شروع کی آیات کا ترجمہ ہے۔اے رسول! ہم نے تجھے ایک عظیم الشان فتح عطا کی ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تیرے متعلق کئے گئے وہ گناہ بھی جو پہلے کئے گئے ڈھانک دے گا اور جو آپ تک ہوئے نہیں لیکن آئندہ ہونے کا امکان ہے) اُن کو بھی ڈھانک دے گا اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا اور تجھے سیدھا راستہ دکھائے گا اور اللہ تیری شاندار مدد کرے گا۔" (سورۃ فتح : ۱تا ۴) صحابہ کرام نے سورہ فتح کی آیات سنیں تو حیران ہوئے کہ ہم تو بظا ہر گز در شرائط پر معاہدہ کر کے آئے ہیں یہ فتح کی خوشخبری کیسی ؟ آپ نے سمجھایا کہ اُحد اور احزاب میں خون بہانے والی جنگیں کرنے والے صلح اور امن وامان پر آمادہ ہو گئے۔یہ بات صحابہ کرام کی سمجھ میں آگئی اور ان کو اطمینان ہو گیا کہ آپ کا ہر فیصلہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہترین ہوتا ہے۔کتنے لمبے عرصے کی مصیبتوں کے بعد امن کا معاہدہ ہوا۔اب مسلمان بھی چین سے بیٹھے ہوں گے۔ماں۔پہلے تو ہر وقت حالت جنگ رہتی تھی اب خطرات میں کافی حد تک کمی آگئی تو آپ نے مختلف ملکوں کے بادشاہوں اور رئیسوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے خطوط بھیجوائے۔قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے نہ صرف آپ کو بلکہ ہرمسلمان کو یہ حکم دیا ہے کہ لوگوں کو اسلام کی نیکی