حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 161
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات وحی کو اپنے حافظے سے پڑھ سکتے تھے۔“ 161 (ترجمه از لائف آف محمد مطبوعه لندن،ایڈیشن 1877ء- صفحه 552،551 ) مشہور مستشرق اور رومن کیتھولک خاتون بن کیرم آرمسٹرانگ لکھتی ہیں : جب بھی کوئی آیت پیغمبر اسلام پر نازل ہوتی ، آپ اسے بلند آواز میں اپنے صحابہ کو سناتے جو اسے یاد کر لیتے اور جو لکھنا جانتے تھے، اسے لکھ لیتے۔(محمد باب دوم، صفحہ 61 پبلشرز علی پلازہ 3 مزنگ روڈ لاہور ) دیگر بہت سے نامی گرامی مستشرق ایسے ہیں جو بعد تحقیق اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ قرآن کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی تحریری اور حفظ کی صورت میں محفوظ کیا جا چکا تھا اور آج بھی اسی شکل میں محفوظ ہے جیسا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا۔قرآن کریم واحد مذہبی کتاب ہے جو نزول کے ساتھ ساتھ صاحب وحی کے زیر نگرانی ایک سے زیادہ نسخوں میں تحریری شکل میں سنبھالی جا رہی تھی اور حفظ کی صورت میں محفوظ کی جا رہی تھی اس پر مستزاد یہ کہ آج تک اُسی تواتر کے ساتھ لکھی اور حفظ کی جارہی ہے۔