حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 62 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 62

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 62 سرداری کا معیار حفظ قرآن ہے تہجد گزار حافظ قرآن کا سینہ کستوری سے بھری ہوئی تھیلی کی طرح ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک کام میں ایسے شخص کو ترجیح دیا کرتے تھے جس کو قرآن کریم زیادہ حفظ ہوتا تھا۔چنانچہ ایک بار کہیں لشکر بھیجنا مقصود تھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا امیر ایک ایسے صحابی کو مقرر کیا جسے قرآن کریم سب۔زیادہ یاد تھا۔چنانچہ روایت ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا وَهُمْ ذُو عَدَدٍ فَاسْتَقْرَأَهُمُ فَاسْتَقْرَأَ كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَا مَعَهُ مِنَ الْقُرْآنِ فَأَتَى عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ أَحْدَثِهِمُ سِنَّا فَقَالَ مَا مَعَكَ يَا فُلاَنُ قَالَ مَعِي كَذَا وَكَذَا وَسُورَةُ الْبَقَرَةِ قَالَ أَمَعَكَ سُورَةُ الْبَقَرَةِ؟ فَقَالَ نَعَمْ۔قَالَ فَاذْهَبْ فَأَنْتَ أَمِيرُهُمْ۔فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِهِمْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مَنَعَنِي أَنْ أَتَعَلَّمَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ إِلَّا خَشْيَةَ أَلَّا أَقُومَ بِهَا۔فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَاقْرَءُوهُ وَأَقْرِئُوهُ فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَرَأَهُ وَقَامَ بِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُةٍ مِسْكًا يَفُوحُ بِرِيحِهِ كُلُّ مَكَانٍ وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَهُ فَيَرْقُدُ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ وُكِءَ عَلَى مِسْكِ۔(جامع الترمذی ، ابواب فضائل القرآن باب ماجاء في فضل سورة البقرة و آية الكرسى) ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک لشکر روانہ فرمایا اور وہ کافی بڑی تعداد میں تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر آدمی سے جتنا اسے قرآن یاد تھا سنا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک شخص کے پاس آئے جو اُن میں کم عمر تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت