حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 61
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 61 کی تعیین کے لیے قرآن کریم کی آیات کی مثال دیتے۔ایک آدمی کے پوچھنے پر کہ رمضان میں سحری اور نماز فجر کے درمیان کتنا وقت ہوتا ہے؟ کا جواب یوں دیتے کہ اس دوران اتنا وقت ہوتا ہے جتنی دیر کوئی شخص پچاس آیات کی تلاوت کرتا ہے۔“ ایک ماہر حافظ قرآن کی کثرت تلاوت کا ذکر خیر : (بخاری ، کتاب مواقيت الصلواة، باب وقت الفجر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کثرت کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتے تھے اور ان کو مصحف کا ایسا تجربہ ہو چکا تھا کہ جب بھی قرآن کریم کی کسی آیت کا حوالہ کوئی پوچھتا تھا تو وہ فور بتا دیا کرتے تھے۔ایسے ہی ایک ماہر قاری ابو سہل بن زیاد کی بابت آتا ہے: حَدَّثَنِي الْأَزْهَرِى قَالَ قَالَ لِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ بِشْرِ الْقَطَانِ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَحْسَنَ انْتِزَاعًا لَمَّا أَرَادَ مِنْ آى الْقُرْآنِ مِنْ أَبِي سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ فَقُلْتُ لِابْنِ بِشْرِ مَا السَّبَبُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ كَانَ جَارُنَا وَكَانَ يَدِيْمُ صَلَاةَ اللَّيْلِ وَتِلَاوَةِ الْقُرْآن فَلِكَثُرَةِ دَرْسِهِ صَارَ كَأَنَّ الْقُرْآنُ نَصَبٍ عَيْنَيْهِ يَنْتِزِعُ مِنْهُ مَا شَاءَ مِنْ غَيْرِ تَعْبِ۔تاريخ بغداد ، حرف الميم من اباء الأحمدين، ذكر من اسمه احمد واسم أبيه محمد ) ازھری نے کہا مجھے ابو عبد اللہ بن بشر قطان نے بتایا کہ میں نے ابو سہل بن زیاد سے اچھا قرآن کی آیات (موقع پر ) ڈھونڈ نکالنے والا نہیں دیکھا۔ازھری کہتے ہیں کہ میں نے ابن بشر سے کہا اس کا سبب کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ ہمارے پڑوس میں رہتے تھے۔وہ قیام الیل اور تلاوت قرآن کریم کی بہت پابندی کرتے تھے، اسی وجہ سے انہیں قرآن کریم ایسا از بر تھا کہ جیسے وہ ان کی آنکھوں کے سامنے کھلا ہوا رکھا ہے۔جب قرآن کریم میں سے کوئی آیت نکالنی ہوتی تو اس بارے میں ہم نے ان سے زیادہ اچھا ملکہ کسی کا نہیں دیکھا کہ وہ فوری طور پر وہ آیت نکال کر سامنے رکھ دیتے۔