حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 50 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 50

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 50 ہیں، ان کو کلام الہی حفظ کرواتے ہیں، ان کے والدین کو بھی اجر دیا جاتا ہے۔بچے جب جب قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں والدین اور استاذ کو بھی اس کا ثواب ملتا ہے کیونکہ انہوں نے اس بچے کو سکھانے کا اہتمام کیا ہوتا ہے۔چنانچہ اس بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ أُلْبِسَ وَالِدَاهُ تَاجًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ضَوْؤُهُ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِي بُيُوتِ الدُّنْيَا لَوْ كَانَتْ فِيكُمْ فَمَا ظَنُّكُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهَذَا۔(سنن أبی داود، کتاب الوتر، باب في ثواب قراءة القرآن) ترجمہ: جس نے قرآن کریم پڑھا اور اس پر عمل کیا قیامت والے دن اس کے والدین کو ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی اس سورج سے بھی زیادہ ہوگی جو دنیاوی گھروں کو روشن کرتا ہے۔اور اگر تمہارے پاس یہ سورج ہو اور اس کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جو اس یعنی قرآن کریم پر عمل کرتا ہو۔قرآن کریم کی تلاوت میں مشغول رہنے والے پر عطاء انہی: عشق قرآن میں ڈوبے ہوئے حافظ قرآن کا خیال اللہ تعالیٰ خود رکھتا ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ اللہ تعالیٰ اس کی ضروریات کا خود متکفل ہو جاتا ہے اور اس کو بن مانگے دیتا چلا جاتا ہے کیونکہ وہ تو اللہ کی خاطر اس کے کلام کو پڑھنے پڑھانے ، پھیلانے اور لوگوں کو سمجھانے میں مصروف ہوتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ اس کی جملہ ضروریات کا خیال رکھتا ہے۔چنانچہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ایک حدیث قدسی بیان کرتے ہیں: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ شَغَلَهُ الْقُرْآنُ وَذِكْرِي عَنْ مَسْأَلَتِي أَعْطَيْتُهُ أَفْضَلَ مَا أُعْطِيَ السَّائِلِينَ۔(سنن الترمذى - كتاب فضائل القرآن - باب (25) ترجمہ : حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صاحب عزت و جلال اللہ تعالیٰ