حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 47 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 47

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 47 کے معانی پر تدبر کرتا ہو اور اس کی تعلیمات کو جانتا ہو اور ان پر کما حقہ عمل بھی کرتا ہو۔قرآن کریم کے اوامر اور نواہی پر بھی عمل کرتا ہو اور اس کی زندگی میں قرآن کریم ایک نصاب کی طرح شامل ہو۔اس طرح نہ ہو کہ صرف اس کو طوطے کی طرح رہنا اور پڑھتا رہے بلکہ ایک عالم باعمل ہو جائے۔ایسا شخص حقیقت میں حامل قرآن ہوتا ہے۔کثرت سے تلاوت کرنے والا اور حافظ قرآن مستجاب الدعوات ہوتا ہے: جب کوئی شخص قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کرے اور قرآن کریم کا حافظ بھی ہو اور اس کے علوم سے بہرہ ور ہو ، وہ اس پر دن رات تدبر بھی کرتا ہو اور اس کی تعلیمات پر عمل بھی کرتا ہو تو لا محالہ اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظریں اس پڑتی ہیں اور اس کو اللہ تعالیٰ اپنا قرب بھی عطا فرماتا ہے۔پس ایسے شخص کی دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کو مقبول دعاؤں کی توفیق بھی عطا فرماتا ہے۔اس مضمون کی ایک روایت ہے: عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ خَيْرُكُمْ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَ أَقْرَأَهُ إِنَّ لِحَامِلِ الْقُرْآنِ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ يَدْعُوْا بِهَا فَيُسْتَجَابُ لَهُ۔(شعب الإيمان التاسع عشر، باب في تعظيم القرآن، فصل في تعليم القرآن، جزء 2 صفحه 405) | ترجمہ : حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن کریم خود بھی پڑھتا ہے اور دوسروں کو بھی پڑھاتا ہے کیونکہ حامل قرآن جو دعائیں کرتا ہے وہ یقیناً قبول کی جاتی ہیں۔حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ لِقَارِءِى الْقُرْآنِ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ فَإِنْ شَاءَ صَاحِبُهَا عَجَلَهَا فِي الدُّنْيَا وَإِنْ شَاءَ أَخَّرَهَا إِلَى الْآخِرَةِ (کنز العمال، كتاب الاذكار من قسم الاقوال، باب السابع فى لاوة القرآن وفضائله الفصل الاول في فضائله ، حدیث نمبر 2281) | ترجمه قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے ( حامل قرآن) کی ایک دعا ضرور قبول