حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 19 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 19

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 19 وَلَمْ يَكُنْ هَذَا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ، وَلَمْ يَكُوْنُوْا يَقْرَءُ وْنَ التَّوْرَاةَ إِلَّا نَظرًا، غَيْرُ مُوْسَى وَهَارُوْنَ وَيُوْشَعُ ابْنُ نُوْنِ وَعُزَيْرٍ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِم (تفسیر قرطبی جلد 17 صفحه 87۔88- سورة القمر آيت (22) حفظ توریت کی خصوصیت، بنی اسرائیل کو حاصل نہ تھی بلکہ موسیٰ ، ہارون، یوشع بن نون اور عزیر علیہم السلام کے سوا سب لوگ تو ریت کو ناظرہ ہی پڑھا کرتے تھے۔بانی جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: قرآن شریف کی حفاظت کا جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ توریت یا کسی اور کتاب کے لیے نہیں۔۔۔۔۔حضرت خلیلہ اسیح الثانی نور اللامر اللہ فرماتے ہیں: (الحكم 17 نومبر 1905ء) آج اگر بائبل کے سارے نسخے جلا دیے جائیں تو بائبل کے پیرو اس کا بیسواں حصہ بھی دوبارہ جمع نہیں کر سکتے لیکن قرآن مجید کو یہ فخر حاصل ہے کہ اگر سارے نسخے قرآن مجید کے دنیا سے مفقود کر دیے جائیں تب بھی دو تین دن کے اندر مکمل قرآن مجید موجود ہوسکتا ہے اور بڑے شہر تو الگ رہے۔ہم قادیان جیسی چھوٹی بستی میں اسے فوراً حرف بہ حرف لکھوا سکتے ہیں۔“ (تفسیر کبیر، جلد چهارم صفحه 18 زیر تفسير سورة الحجر: 10) اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے : إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (الحجر : 10) ترجمہ: یقیناً ہم نے اس ذکر ( یعنی قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو جو مرتبہ عطا فرمایا ہے وہ کسی بھی دوسری کتاب کو عطا نہیں فرمایا۔یوں تو تو رات اور انجیل کو بھی اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے لیکن چونکہ ان میں تحریف ہو چکی ہے اس لیے نہ تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی لفظی حفاظت کا ذمہ لیا ہے اور نہ ہی معنوی حفاظت کا۔جبکہ قرآن کریم واحد ایسی کتاب