حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 180
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 180 مضمون کی آیتیں فوراً قرآن کریم سے نکال دیا کرتے تھے۔۔۔ان کی وفات کے بعد مجھے ایسا اب تک کوئی آدمی نہیں ملا۔(افضل، 26 جولائی 1944ء) حضرت مرزا ایوب بیگ صاحب رقت سے قرآن مجید پڑھتے۔مومنین کے ذکر پر عجز سے دعا کرتے کہ ان جیسے اعمال کی توفیق ملے اور کفار و منافقین کے ذکر پر عجز سے دعا کرتے کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے نہ بنائے۔سجدہ میں آدھ آدھ گھنٹہ دعا کرتے۔قرآن مجید کے احکام پر حضرت مسیح موعود کے قرآن مجید سے نشان لگائے ہوئے تھے کہ جنہیں تلاوت کے وقت بالخصوص مدنظر رکھنا چاہئے۔بعض دفعہ کوئی آیت لکھ کر اپنے رہنے کی جگہ پر لٹکا دیتے تا وہ ہمیشہ پیش نظر رہے۔رمضان المبارک میں ایک بار قرآن مجید ضرور ختم کرتے۔اور آخری مرض میں حفظ کرنا بھی شروع کیا تھا اور کچھ حصہ حفظ بھی کر لیا تھا۔“ (رفقائے احمد، جلد اول، صفحه 98 | حضرت سیٹھ شیخ حسن صاحب (آف حیدر آباد دکن) کے بارہ میں روایت ہے : ”انہوں نے خواب دیکھا کہ آنحضرت ﷺ نے قرآن کریم کی طرف اشارہ کرتے اس کو پڑھنے کی تلقین کی۔نیز بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو مسجد احمد یہ یاد گیر کے چبوترے پر بلند آواز سے قرآن مجید کی صلى الله تلاوت فرماتے دیکھا۔میں ادب سے کھڑا تلاوت سنتا گیا۔آنحضور ﷺ کی تلاوت کے بعد میں نے جھک الله کر السلام علیکم کہا۔آنحضور ﷺ نے وعلیکم السلام فرمایا اور ایک درخت کی طرف اشارہ کیا۔دیکھا کہ ہزاروں قرآن مجید جز دانوں میں پڑے درخت پر جا بجا لٹک رہے ہیں۔میر محمد سعید صاحب نے تعبیر میں فرمایا کہ آپ کو قرآن مجید کی بار بار تلاوت اور اس کی اشاعت کی ہدایت ہوئی ہے۔چنانچہ سیٹھ صاحب نے خود قرآن مجید پڑھا، یاد گیر میں مدرسہ احمدیہ کے ساتھ ایک مدرسہ حفاظ قرآن جاری کیا۔قرآن مجید حفظ کرنے والے بچوں کے لیے انعام واکرام اور لباس وطعام کا آپ کی طرف سے انتظام تھا۔دوسرے لوگوں کی ترغیب کے لیے آپ سارا قرآن ختم کرنے والے کو ایک سوروپے، نصف ختم کرنے والے کو ساڑھے پچاس روپے اور چوتھائی ختم کرنے والے کو سوا پچیس روپے انعام دیتے تھے۔آپ نے ہزاروں روپے کے قرآن مجید بھی مفت تقسیم کیے۔“ ( رفقائے احمد ، جلد اول، صفحہ 219 220) حضرت حافظ سید مختار احمد شاہجہانپوری صاحب کا واقعہ بھی قابل ذکر ہے۔