حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 92
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 92 رب العالمین پڑھ کر کچھ دیر کے لیے توقف فرماتے پھر الرحمن الرحیم پڑھتے اور اگلی آیت پڑھنے کے لیے کچھ توقف فرماتے۔پھر مالک یوم الدین پڑھتے۔عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكِ أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ الا الله عَنْ قِرَاءَةِ النَّ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرُفًا (ترمذی، ابواب فضائل القرآن باب ما جاء كيف قراءة النبي ) ترجمہ: حضرت یعلی بن مملک بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی تلاوت کا کیا طریق تھا ؟ تو انہوں نے کہ بتایا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت ” قراءت مفسرہ ہوتی تھی یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تلاوت کیا کرتے تھے تو سننے والے کو ایک ایک حرف کی الگ الگ سمجھ آ رہی ہوتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: قرآن شریف کو خوش الحانی سے پڑھنا چاہیے بلکہ اس قدر تاکید ہے کہ جو شخص قرآن شریف کو خوش الحانی سے نہیں پڑھتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ (ملفوظات جلد چهارم صفحه 524) آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش الحانی سے قرآن سنا تھا اور آپ اس پر روئے بھی تھے۔جب یہ آیت سنی۔وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا (النساء: 42) آپ روئے اور فرمایا ، بس کر میں آگے نہیں سن سکتا۔آپ کو اپنے گواہ گزارنے پر خیال گزرا ہو گا۔ہمیں خواہش رہتی ہے کہ کوئی خوش الحان حافظ ہو تو قرآن سنیں۔“ (ملفوظات، جلد۔سوم صفحه (162) قرآن شریف میں تدبر و تفکر وغور سے پڑھنا چاہیے۔حدیث میں آیا ہے رُبَّ قَارِ يَلْعَنُهُ القُرآن یعنی بہت ایسے قرآن کریم کے قاری ہوتے ہیں جن پر قرآن کریم لعنت بھیجتا ہے۔جو شخص قرآن پڑھتا اور اس پر عمل نہیں کرتا اس پر قرآن مجید لعنت