حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 93
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 93 بھیجتا ہے۔تلاوت کرتے وقت جب قرآن کریم کی آیت رحمت پر گزر ہو تو وہاں خدا تعالیٰ سے رحمت طلب کی جاوے اور جہاں کسی قوم کے عذاب کا ذکر ہو تو وہاں خدا تعالیٰ کے عذاب سے خدا تعالیٰ کے آگے پناہ کی درخواست کی جاوے اور تدبر وغور سے پڑھنا چاہیے اور اس پر عمل کیا جاوے۔“ علم تجوید و قراءت کی تعریف (ملفوظات، جلد پنجم صفحه : 157) | اصطلاح میں تمام عربی حروف کو ان کے مخارج، صحت تلفظ اور کامل صفات کے ساتھ ادا کرنا۔نیز دورانِ تلاوت رموز اوقاف کا خیال رکھنا اور تصنع یا تکلف سے بچنا علم تجوید کہلاتا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: كَانَ رَسُولُ اللهِ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ بِالْقَطْعِ وَيَمُدُّ مَدًا۔( بخاری - کتاب فضائل القرآن ـ باب مد القراءة) کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہر ٹھہر کر اور ہر ایک لفظ کو الگ الگ ادا کر کے اور مد کولمبا کر کے پڑھتے تھے۔گویا تمدید یعنی ہر ایک لفظ کو اس طرح ادا کرنا کہ ہر ایک کو اس کی سمجھ آرہی ہو تجوید کہلاتا ہے۔اسی تجوید کو عرف عام میں قراءت کہا جاتا ہے اور ترتیل سے بھی یہی مراد ہے۔جیسا کہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلاً (المزمل: 5) کہ قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر عمدگی سے پڑھو۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جب ترتیل کا مطلب دریافت کیا گیا تو آپ نے اس سے مراد تجوید ہی لیا اور فرمایا: هُوَ تَجْوِيدُ الْحُرُوفِ وَ مَعْرِفَةُ الْوُقُوفِ “ " الإتقان في علوم القرآن للسيوطى، النوع الثامن والعشرون في معرفة الوقف والابتداء، جزء 1 صفحه 221) | یعنی حروف کو عمدگی سے ادا کرنا، صحت تلفظ کا خیال رکھنا اور اس بات کا علم رکھنا کہ کہاں کہاں ٹھہرنا ہے؟ ترتیل کہلاتا ہے۔