حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 86 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 86

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 86 ترجمہ: اے قرآن کریم پر ایمان رکھنے والو! قرآن کریم کو اپنا تکیہ بنا کر نہ رکھو، بلکہ دن اور رات کی مختلف گھڑیوں میں اس طرح اس کی تلاوت کیا کرو، جیسا کہ تلاوت کرنے کا حق ہے۔اور اس کو پھیلاؤ، اور اس کو سنوار کر پڑھا کرو، اور جو کچھ اس میں ہے اس پر تدبر کیا کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ اور اس تلاوت کا اجر جلدی نہ مانگو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا عظیم ثواب اور معاوضہ مقدر ہے۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ عَلَمَهُ اللهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَتْلُوهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ فَسَمِعَهُ جَارٌ لَهُ فَقَالَ لَيْتَنِي أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ فُلَانٌ فَعَمِلْتُ مِثْلَ مَا يَعْمَلُ (بخاری، کتاب فضائل القرآن باب اغتباط صاحب القرآن، حدیث نمبر 5026) | آنحضور ﷺ نے تلاوت کرنے والے کو رشک بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے فرمایا: دو آدمیوں پر رشک کرنا چاہئے ایک وہ جسے خدا تعالیٰ قرآن سکھائے اور وہ دن اور رات کے اوقات میں اس کی تلاوت کرتا ہو یہاں تک کہ اس کا ہمسایہ بھی متاثر ہو کر کہے کہ اے کاش: مجھے بھی اس طرح قرآن پڑھنا آتا اور میں بھی ایسا ہی کرتا۔عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لَاصْحَابِهِ اقْرَءُ وُا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَ سُورَةَ آلِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَاكَ تُحَاجَانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا اقرءوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةً وَتَرُكَهَا حَسْرَةٌ وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ۔(مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب فضل قراءة القرآن و سورة البقرة) ترجمہ: حضرت ابوامامہ باہلی روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قرآن پڑھا کرو یہ قیامت کے روز اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت کرے گا۔ذهر اوین یعنی سورۃ بقرۃ اور سورۃ آل عمران پڑھا کرو۔یہ