حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 73
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 73 کے متعلق الگ انداز سے پیش آئے گا اور کہے گا: اے میرے رب! تو نے میری آیات کو اچھے حامل قرآن کے سپرد کیا۔اس نے میری حدود کی حفاظت کی ، میرے فرائض پر عمل کیا، میری اطاعت اور پیروی کی اور میری نافرمانی سے بچتا رہا۔پس قرآن کریم اس کے حق میں حجت قائم کرے گا حتی کہ قرآن کریم کو اس شخص کے متعلق بھی اختیار دیا جائے گا جس پر وہ اسے پکڑلے گا اور نہیں چھوڑے گا یہاں تک کہ اس کو استبرق کی پوشاک پہنائے گا، اس کے سر پر شاہی تاج رکھے گا، اور اسے (جنت کی ) شراب پلائے گا۔“ حافظ قرآن کو چاہیے کہ عمدہ اخلاق اور اچھا رویہ رکھے: قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ ادب اور علم کا طریق اپنائے کیونکہ الطَّرِيقَةُ كُلُّهَا اَدَب۔کہ ادب ہی بہترین اخلاق کی جڑھ ہے۔پس جس کے پاس قرآن کریم کا علم ہے اور وہ اس کی تلاوت بھی کرتا ہے اور حتی المقدور اس پر عمل بھی کرتا ہے اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت فرمائی ہے کہ وہ غصہ نہ کرے اور علم اور بردباری کو اپنا شعار بنائے رکھے۔گالی گلوچ بخش گوئی اور جاہلوں کے ساتھ جاہلانہ پن سے نہ پیش آئے۔چنانچہ روایت ہے: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَقَدِ اسْتَدْرَجَ النُّبُوَّةَ بَيْنَ جَنْبَيْهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُوْحَى إِلَيْهِ لَا يَنْبَغِي لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ أَنْ يَجَدَّ مَعَ جَةٍ وَلَا يَجْهَلُ مَعَ جَهْلٍ وَفِي جَوْفِهِ كَلَامُ اللَّهِ تَعَالَى (مستدرك على الصحيحين كتاب فضائل القرآن، أخبار في فضائل القرآن جملة، جزء اول، صفحه 738) | ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے قرآن کریم پڑھا تو اس نے گویا نبوت کو اپنے دونوں پہلوؤں کے درمیان رکھ لیا، فرق صرف یہ ہے کہ قرآن کریم اس