حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 66
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 66 اللهُ وَيَنْبَغِي لِحَامِلِ الْقُرْآنِ أَنْ يَكُوْنَ أَطْوَلَ النَّاسِ لَيْلًا إِذَا كَانَ النَّاسُ نَامُوْا وَأَنْ يَكُوْنَ أَطْوَلَ النَّاسِ حُزْنًا إِذَا النَّاسُ فَرِحُوْا (کنز العمال جلد 1 - صفحه 622، كتاب الاذكار من قسم الاقوال، باب السابع في تلاوة القرآن وفضائله، الفصل الثالث في ترجمہ: اے حافظ قرآن ! خوب سنوار کر قرآن کریم کی تلاوت کر، اللہ تعالیٰ تجھے حسن عطا فرمائے گا۔اور اسے انسانوں سے داد پانے کے لیے خوبصورتی سے ادا مت کر ور نہ اللہ تعالیٰ تجھے عیب دار کر دے گا۔حافظ قرآن کو چاہیے کہ رات کے وقت جب دوسرے لوگ سورہے ہوں تو وہ ان سب سے زیادہ رات کو طویل قیام کرے اور جب دوسرے لوگ خوشیاں منا رہے ہوں تو خون کی حالت میں سب سے زیادہ طویل تلاوت کرے۔آداب التلاوة) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر حفاظ کو نصائح کرتے ہوئے فرمایا: يَا حَامِلَ الْقُرْآنِ اعْجَلُ عَيْنَيْكَ بِالْبُكَاءِ إِذَا ضَحِكَ الْبَطَّالُونَ قُمِ اللَّيْلَ إِذَا نَامَ النَّائِمُونَ وَصُمُ إِذَا أَكَلَ الأكِلُونَ اُعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ وَلَا تَحْقِدُ بِحِقْدٍ وَلَا تَجْهَلُ فِيمَنْ يَجْهَلُ (فردوس الاخبار الدیلمی، جلد 5 ، صفحه 393، حدیث نمبر (8262) ترجمہ: اے حافظ قرآن! تو (خشیت سے ) اپنی آنکھوں سے آنسو بہا جب غافل لوگ ہنس رہے ہوں ، تو راتوں کو عبادت کے لیے) قیام کر جب سونے والےسو رہے ہوں ، تو روزہ رکھ جب لوگ کھانے پینے میں مصروف ہوں، تو ایسے ہر شخص سے عفو و درگزر سے کام لے جو تجھ پر ظلم کرے، اور تو کینہ و بغض نہ رکھ اور جو جہالت سے پیش آئے تو تو اس کے ساتھ جہالت کا طریق اختیار نہ کر۔