حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 60
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 60 قرآن کریم کے حفاظ اور علی الصبح تلاوت کرنے والوں کا حسین نظارہ: فجر کے وقت اور نماز فجر کی ادائیگی کے بعد علی اصبح تلاوت قرآن کریم کا ایک اپنا لطف ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم با قاعدگی کے ساتھ تلاوت قرآن کریم کیا کرتے تھے۔یہ نظارہ مدینہ میں نماز فجر سے پہلے اور بعد میں نظر آتا تھا۔ایک تابعی ابوالزناؤ ایک ایسا ہی واقعہ بیان کرتے ہیں: كُنْتُ أَخْرِجُ مِنَ السَّحْرِ إِلَى مَسْجِدِ النَّبِيِّ ﷺ فَلَا أَمُرُّ بِبَيْتٍ إِلَّا فِيْهِ قَارِيِّ وَكُنَّا نَحْنُ فِتْيَانٌ نُرِيْدُ أَنْ نَخْرُجَ لِحَاجَةٍ فَنَقُوْلُ مَوْعِدُكُمْ قِيَامُ الْقُرَّاءِ۔(مختصر قيام الليل لمحمد بن نصر المروزي، باب الاستغفار بالأسحار والصلاة فيها ترجمہ : میں سحری کے وقت گھر سے مسجد نبوی جانے کے لیے نکالتا تو جس گھر کے سامنے سے بھی میرا گزر ہوتا اسی میں سے قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے کی آواز آرہی ہوتی تھی تو ہم نو جوان جب رفع حاجت کے لیے اکٹھے نکلتے تھے تو یہ طے کر لیا کرتے تھے کہ علی الصبح جب قاری حضرات قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں اس وقت ہم فلاں جگہ اکٹھے ہوں گے۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔: ”جب رات ہوتی ہے تو میں اپنے اشعری صحابہ کی آوازوں کو ان کی قرآت سے پہچان لیتا ہوں اور رات کو ان کی تلاوت قرآن کی آوازوں کے ذریعہ ان کے مکانات کی شناخت کر لیتا ہوں خواہ میں نے دن کے وقت ان کے مکانات نہ بھی دیکھے ہوں۔جبکہ انہوں نے دن کے وقت آ کر اپنے پڑاؤ کے لیے مکانات تیار کیے ہوتے“۔(بخاری، کتاب المغازی، باب غزوة خيبر علم صحابہ کرام کا قرآن کریم سے تعلق اور عشق کا اظہار اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ وہ وقت