حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 57
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 57 مَنْ دَعَا صَاحِبَ الْقُرْآنِ إِلَى طَعَامِهِ وَسَقَاهُ مِنْ شَرَابِهِ لِفَضْلِ الْقُرْآنِ أَعْطَاهُ اللهُ عَزَّوَجَلَّ بِكُلِّ حَرْفٍ فِي جَوْفِهِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَمَحَى عَنْهُ عَشْرِ سَيِّئَاتٍ وَرَفَعَ لَهُ عَشْرَ دَرَجَاتٍ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يَقُوْلُ اللَّهُ إِيَايَ كَرَمْتَ وَكَفَى بِهِ مَثِيْبًا (فردوس الاخبار الدیلمی، جلد 4، صفحه 199، 200 ، حدیث نمبر (6134) ترجمہ:۔جس نے فضیلت قرآن کی وجہ سے حافظ قرآن کی دعوت کی ، اور اس کی خاطر تواضح کی، تو اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ دعوت کرنے والے کو حافظ کے دل میں موجود ہر حرف کے بدلہ میں دس نیکیاں عطا فرمائے گا، دس گناہ معاف کر دے گا اور دس درجات بلند کر دے گا اور جب قیامت کا دن آئے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ چونکہ تو نے میری وجہ سے اس کی عزت کی ، اس لیے اس اکرام کا بدلہ دینے کے لیے میں ہی کافی ہوں۔قاری اور حافظ کے مشوہ کی اہمیت: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ صحابہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ سے حصہ پا کر اپنے اخلاق کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطابق ڈھال چکے تھے اور جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ تھی انہوں نے بھی وہی طرز اپنائی تھی۔چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب خلافت کی مسند پر متمکن ہوئے تو انہوں نے اپنی مجلس مشاورت میں ان لوگوں کو جگہ دی جو حفاظ قرآن اور قاری تھے۔اس ضمن میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: كَانَ الْقُرَّاءُ أَصْحَابَ مَجْلِسِ عُمَرَ وَمُشَاوَرَتِهِ كُهُولًا كَانُوا أَوْ شُبَّانًا۔(بخاری، کتاب الاعتصام، باب الاقتداء بسنن رسول الله ﷺ ترجمہ :۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی محفل اور مشاورت میں قرآن کریم کے قاری شامل ہوتے تھے خواہ وہ ادھیڑ عمر کے ہوتے تھے یا بالکل نو جوان۔