حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 56 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 56

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 56 ترجمہ : حضرت عثمان بن عبداللہ بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کریم کی زبانی تلاوت انسان کے ایک ہزار درجات بلند کرتی ہے جبکہ مصحف سے دیکھ کر تلاوت کرنے سے تلاوت کرنے والے کے دو ہزار درجات بلند ہو جاتے ہیں۔حفاظ کی عزت وتعظیم کرو عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ اللَّهِ إِنَّ مِنْ إِجْلَالِ اللَّهِ إِكْرَامَ ذِي الشَّيْبَةِ الْمُسْلِمِ وَحَامِلِ الْقُرْآنِ غَيْرِ الْغَالِي فِيهِ وَالْجَافِى عَنْهُ (سنن ابی داود، کتاب الأدب، باب في تنزيل الناس منازلهم) ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ کی عظمت وجلال میں سے ہے کہ ایک مسلمان بوڑھے کی اور ایسے حفاظ قرآن کی عزت کرنا، جو نہ قرآن میں غلو کر نے والا ہو اور نہ اس سے دوری اختیار کرنے والا ہو۔حافظ قرآن کی دعوت کرنے کا ثواب: تالیف قلب کا مضمون ایسا گہرا اور قابل تقلید اور قابل عمل ہے کہ اس سے بہت سے مسائل کا حل بھی ہوتا ہے اور ایک دوسرے کے محبت بڑھتی ہے ایک دوسرے کے لیے نیک جذبات بھی پیدا ہوتے ہیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عمومی تعلیم یہ دی کہ ایک دوسرے کو تحفے دیا کرو، اس سے محبت بڑھتی ہے اور پھر یہ بھی کہ ہمسائے ایک دوسرے کا اس قدر خیال رکھیں کہ کچھ پکایا ہو تو ایک دوسرے کے گھروں میں بھجوایا کریں۔یہ بھی فرمایا کہ ایک دوسرے کی دعوت کیا کرو اس سے بھی محبت بڑھتی ہے۔حفاظ کرام کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر ہدایت دی کہ ان کی تالیف قلب کے لیے ان کے ساتھ ایسا تعلق رکھو کہ ان کی دعوت کرو، اس کا تمہیں ثواب ملے گا۔چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: