حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 38
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 38 سلاست سے قرآن کریم کی تلاوت نہیں کر سکتے ان کے لیے بھی اجر ہے۔گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ترغیب دلائی اور ایسے شخص کا حوصلہ بڑھایا ہے جو اٹک اٹک کر قرآن کریم کی تلاوت کرتا اور مشقت اٹھاتا ہے۔عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَاهِرُ بِالْقُرْآن مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌ لَهُ أَجْرَانِ۔(مسلم، کتاب صلاة المسافرين، فضائل القرآن باب فضل الماهر بالقرآن ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تلاوت قرآن میں مہارت رکھنے والا رتبہ کے لحاظ سے ان معزز حاملین قرآن کے ساتھ ہے جو لکھنے والے اور دور دور سفر کرنے والے اعلیٰ درجہ کے نیکو کار ہیں۔اور جو شخص اٹک اٹک کر قرآن کریم کی تلاوت کرتا اور تلاوت کرتے ہوئے مشقت اٹھاتا ہے تو ایسے شخص کے لیے دو گنا ثواب ہے۔قرآن کریم کے حفاظ کے لیے یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔اصطلاح میں قرآن کریم کے ماہر سے مراد ایسا شخص ہوتا ہے جسے قرآن کریم بہت زیادہ یاد ہو، کثرت کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت بھی کرتا ہو اور اس پر تدبر بھی کرتا ہو۔پھر اس پر عمل بھی کرتا ہو۔اس حدیث میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دراصل ان بلند مرتبہ حاملین قرآن کریم یعنی حفاظ کرام کی طرف اشارہ فرمایا ہے جن کا ذکر سورۃ عبس کی آیت نمبر 14 تا17 میں کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فِي صُحُفِ مُكَرَّمَةٍ مَّرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةِ بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرَامٍ بَرَرَةٍ ترجمہ: معزز صحیفوں میں ہے جو بلند کیے ہوئے، بہت پاک رکھے گئے ہیں۔لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں (جو ) بہت معزز ( اور ) بڑے نیک ہیں۔“ (ترجمه بیان فرموده حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمه الله تعالى )